خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 362

$1944 362 خطبات محمود دیانت پیدا ہو سکتی ہے۔تیسری چیز عورتوں کی اصلاح ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ مجھے فرمایا ہے کہ "اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی" تو ہے عورتوں کی اصلاح بھی جماعت پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ عورتوں کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ان کے حقوق پوری طرح ادا کیے جائیں۔میں نے نہایت افسوس کے ساتھ دیکھا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی ابھی تک یہی سمجھتے ہیں کہ عور تیں بھینس اور گائیں ہیں۔جیسا سلوک چاہا اُن سے کر لیا۔میں نے کئی بار مخلی بالطبع ہو کر سوچا ہے اور میں اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ کے لحاظ سے عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں رکھا۔اور اسی طرح عورتوں کے بھی مردوں پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے عورتوں پر مردوں کے۔اور میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ جو کتاب عورت اور مرد کے حقوق میں فرق کرتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں ہو سکتی۔جس خدا نے ایک جیسے دل اور ایک جیسے دماغ دونوں کو دیئے ہیں ضروری ہے کہ وہ ایک ہی جیسے حقوق بھی دے۔دنیا میں انصاف قائم رکھنے کے لیے کسی کے ہاتھ فیصلہ کی آخری کنجی رکھ دینا اور بات ہے۔مگر جہاں تک حقوق کا ہے سوال ہے اسلام نے مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں کیا۔جیسا کہ فرمایا۔وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ 8 یعنی جیسے ہم نے عورتوں پر مردوں کے حقوق رکھے ہیں ویسے ہی ہے - مردوں پر عورتوں کے حقوق ہیں۔مگر لوگ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ عورتوں پر کرتے ہیں۔جب چاہا طلاق دے دی، جب چاہا گھر سے نکال دیا۔ایسی حالت میں یہ امید رکھنا کہ عور تیں بھی دین کے لیے ویسی ہی قربانیاں کریں جیسی مرد کرتے ہیں بالکل غلط امید ہے۔جب تک عورتوں میں بھی مردوں جیسا ہی جذبہ قربانی کا پیدا نہ ہو فتح حاصل نہیں ہو سکتی اور جب تک ہم نہ صرف تعلیم سے بلکہ عمل سے بھی یہ نہ ثابت کر دیں کہ خدا تعالی کی کتاب میں ان کے حقوق بھی ویسے ہی محفوظ کیے گئے ہیں جیسے مردوں کے، عورتوں میں قربانی کی صحیح ہے رُوح پیدا نہیں ہو سکتی۔جب تک عورتیں یہ نہ سمجھیں وہ خدا تعالیٰ کی کتاب پر سچے دل سے ایمان نہیں لاسکتیں۔اور اگر واقعی ایسا نہ ہو تو وہ حق رکھتی ہیں اِس بات کا کہ قرآن کریم کو