خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 306

خطبات محمود 306 $1944 امت کہلانے والوں کے اخلاق ایسے گر چکے ہیں۔بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو بہت اعلیٰ وارفع ہے میں کہتا ہوں اگر یہی گالیاں جو انہوں نے ہم کو دیں ان لوگوں کی ماؤں کے سامنے دہرائی جائیں تو کیا ان کے دلوں کو خوشی ہو گی ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان کی گالیوں کو سن کر خوش ہوتی ہو گی؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کہلانا اور بات ہے مگر ایسے کام کرنا جن سے آپ کی روح خوش ہو اور بات ہے۔میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ یہ گالیاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں نہ پڑنے پائیں تا آپ کے دل سے ان لوگوں کے لیے لعنت نہ نکالے اور آپ کو ملال نہ ہو کہ میری امت اس قدر گر گئی اور گمراہی میں مبتلا ہے۔ہم اس لیے بھی خوش ہیں کہ اس شورش اور اس مخالفت کا کوئی بھی وجود نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے راحت اور ایمان میں ترقی کا سامان مہیا فرما دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "رؤیا میں دیکھا کہ دہلی گئے ہیں اور بخیریت واپس آئے ہیں"۔پھر الہاما یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْصَلَنِي صحيحًا 3 یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جو فساد اور دشمن کے حملے سے صحیح و سالم بچا کر واپس می لے آیا۔اس الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لے ہی نہیں گئے۔آخری سفر جو آپ نے دہلی کی طرف کیا وہ 1905 ء کا ہے۔تو یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا مثیل دہلی جائے گا۔لوگ اُس پر پتھراؤ کریں گے۔یہ جو سنگ باری کی گئی یہ دراصل مجھ پر تھی جسے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی مسند پر بٹھایا ہے ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ آپ کو یعنی آپ کے مظہر کو صحیح و سالم واپس قادیان لے آئے گا۔پس جو کچھ ہوا اس میں اس لحاظ سے بھی ہماری فتح اور کامیابی ہے۔سلسلہ کی صداقت میں کا ایک ثبوت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مامور من اللہ اور خد اتعالیٰ کا پیارا ہونے کا ایک ثبوت ہے۔ہر پتھر جو وہ لوگ ہم پر مار رہے تھے وہ الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَوْصَلَنِي صحیحا کی صداقت کی گواہی دے رہا تھا اور ہر پتھر شاہد تھا اِس امر کا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے اور خدا تعالیٰ آپ سے ہم کلام ہو تا تھا۔یہ جو کہا گیا کہ