خطبات محمود (جلد 25) — Page 219
خطبات محمود 219 $1944 بیرونی جماعتوں کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست جائیدادیں وقف کریں۔یہ وقف جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا اس صورت میں ہو گا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہی ہو گی اور وہی اُس کا انتظام بھی کرے گا۔ہاں جب سلسلہ کے لیے ضرورت ہوگی ایسی ضرورت جو عام چندہ سے پوری نہ ہو سکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہو گی اُسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسیدی تقسیم کر دیا جائے گا۔میں پہلے بھی اس تجویز کو بیان کر چکا ہوں لیکن اب پھر اسے بیان کر دیتا ہوں۔فرض کرو ایک شخص کی جائیداد ایک ہزار کی ہے، دوسرے کی دس ہزار کی اور تیسرے کی ایک لاکھ کی ہے۔ایک کمیٹی مقرر کر دی جائے گی جو کسی ضرورت کے یہ لیے اخراجات کا اندازہ کرے گی۔فرض کرو کمیٹی کا اندازہ یہ ہے کہ ایک لاکھ روپیہ کی ہے ضرورت ہے اور یہ رقم اتنی ہے کہ اگر ایک ایک فیصدی حصہ وقف شدہ جائیدادوں کا لے لیا تین جائے تو پوری ہو سکتی ہے تو جس نے ایک ہزار کی جائیداد وقف کی ہے اُس سے دس روپیہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور جس کی دس ہزار کی جائیداد ہے اُس سے ایک سو کا اور جس کی ایک لاکھ کی ہے اُس سے ایک ہزار اور جس نے دس لاکھ کی جائیداد وقف کی ہے اُس سے دس ہزار کا مطالبہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اتنے عرصہ میں یہ روپیہ داخل کر دو۔جس کے پاس روپیہ ہو وہ اپنے حصہ کاروپیہ ادا کر دے۔لیکن جس کے پاس نہ ہو اُس کی جائیداد کو رہن کر کے اس کے حصہ کاروپیہ وصول کر لیا جائے گا اور اس طرح مطلوبہ خرچ چلایا جائے گا۔پس جائیدادیں وقف کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی جائیدادیں انجمن کو دے دیں۔صرف یہ اقرار کریں کہ جو چندہ ان کے ذمہ ڈالا جائے گا اُسے ادا کریں گے۔اگر کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ مثلاً ایک ہے کروڑ روپیہ کی ضرورت ہے اور وقف شدہ جائیدادیں دو کروڑ روپیہ کی مالیت کی ہیں تو پچاس فیصدی کا مطالبہ کر لیا جائے گا۔جس کی جائیداد دس لاکھ کی ہو گی اُسے پانچ لاکھ اور جس کی دس ماہیے ہزار کی ہو گی اسے پانچ ہزار دینا ہو گا۔مگر یہ ابھی دور کی بات ہے۔فی الحال میر اخیال ہے کہ یہ ایک سے دس فیصدی تک کی ہی چند سالوں تک ضرورت پیش آسکتی ہے۔جن کی جائیدادیں نہیں ہیں اُن کے دل میں اگر خواہش ہو کہ وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوں تو وہ اپنی آمد نیاں وقف کر سکتے ہیں اور ایسے بھی بعض دوست ہیں جنہوں نے