خطبات محمود (جلد 25) — Page 212
$1944 212 محمود تمام کوششیں مولوی فاضل کی ڈگری کے گرد ہی چکر لگاتی رہیں اور ایسے عالم پیدا نہ ہو سکے جو اسلام کا ٹھوس علم رکھنے والے ہوتے۔جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکشاف فرمایا کہ میرے ذمہ اس وقت اسلام کی خدمت خاص طور پر ہے اور خلافت کی ذمہ داریوں سے علاوہ یہ خاص کام میرے سپر د ہے تو پہلی باتوں میں سے جو میرے ذہن میں آئیں ایک یہ تھی کہ علماء کا ایک مضبوط گروه پیدا کرنا ضروری ہے۔قاضی امیر حسین صاحب، حافظ روشن علی صاحب اور مولوی محمد اسمعیل صاحب اپنے اپنے رنگ میں کامل تھے۔قاضی صاحب علم حدیث کے ماہر تھے، حافظ صاحب قرآن کریم کی تفسیر کے اور مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی کتب کے۔مگر ان کے قائمقام پیدا کرنے کا ہمیں اب تک احساس نہ ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ میں اِس کام کو اپنے ہاتھ میں لوں تا جلد از جلد اسلامی علماء کی ایک مضبوط جماعت قائم ہو سکے جو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی بنیاد کا کام دے جس سے آئندہ علماء کا سلسلہ چلتا جائے۔لیکن ابھی میں اس کا اعلان بھی نہ کرنے پایا تھا کہ ایک اور جید عالم ہم میں سے اُٹھ گیا۔اس وقت جہاں تک تعلیم کا سوال ہے ہمارے پاس دو ہی آدمی تھے۔یعنی مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور میر محمد اسحق صاحب لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت نے میر صاحب کو اٹھا لیا اور اب ہمیں تھوڑے سے وقت میں اور بہت تھوڑے سامان سے نئی عمارت کی بنیاد رکھنی ہے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بے شک بہت باہمت ہیں اور جس طرح وہ ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اسے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی ہے۔مگر اب وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، ان کی کمر بھی تم مینی ہو گئی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ انہیں زیادہ سے زیادہ عمر بھی دے تو بھی اب وہ زیادہ کام نہیں کر سکتے۔اس میں شک نہیں کہ جماعت میں دوسرے درجہ کے علماء کی ایک جماعت ہے ؟ ئس صاحب اور مولوی ابو العطاء صاحب ہیں مگر یہ لوگ دوسرے نمبر پر ہیں۔ان کے مطالعہ کی وسعت اور کسی خاص علم میں ان کی خصوصیت مذکورہ علماء جیسی نہیں۔ہم میں علماء کی ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے کہ جن میں سے ہر ایک قرآن و حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کامل عالم ہو۔بڑے سے بڑے قاضی، فقیہ، محدث