خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 168

خطبات محمود 168 $1944 احسان ہوتا ہے اُس بندے پر جس کی روح خدا کے آستانہ پر جھکی رہے اور اُس سے کہے کہ اے میرے رب! مجھے کوئی شکوہ نہیں۔تُو نے جو کچھ کیا ٹھیک کیا۔یہی عین مصلحت تھی اور یہی چیز میرے لیے بہتر تھی۔تیرا فعل بالکل درست ہے۔اور گو مجھے سمجھ میں نہ آئے مگر میں ہے یہی کہتا ہوں کہ تیرا کوئی کام حکمت کے بغیر نہیں۔میں نے جہاں تک ہو سکا مر حومہ کے علاج کے لیے کوشش کی۔لمبی بیماری تھی۔لیکن اس لمبی بیماری میں خدا تعالی نے مجھے توفیق عطا فرمائی ہیں کہ میں نے ان کی ہر طرح خدمت کی اور ان کے علاج کے لیے کوشش کی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے لیے ثواب کا ایک موقع بہم پہنچا دیا۔اور اس بات کا بھی کہ میاں بیوی میں بعض ہے دفعہ رنجشیں ہو جاتی ہیں خصوصاً جس کی کئی بیویاں ہوں اُن میں سے بعض کہہ دیا کرتی ہیں کہ میں ہم سے محبت نہیں فلاں سے ہے، چاہے اُس سے زیادہ محبت ہو۔مگر اس قسم کے شکوے بعض ہے دفعہ پیدا ہو جایا کرتے ہیں۔مجھے ان کی اِس لمبی بیماری کی وجہ سے بہت تکلیف تھی مگر میں سمجھتا تھا اس کے کئی فوائد بھی ہیں۔ایک تو یہ کہ میں سمجھتا تھا کم سے کم میری خدمت کی وجہ سے اگر ان کے دل میں اس قسم کا کوئی خیال ہو گا بھی کہ میر اخاوند مجھ سے محبت نہیں کرتا رہا، میری قدر نہیں کرتا تو یہ خیال ان کے دل سے جاتا رہے گا اور ان کی وفات اطمینان کی وفات کے ہو گی اور یہ سمجھتے ہوئے ہو گی کہ میرا خاوند مجھ سے محبت کرتا ہے۔دوسری حکمت اس میں یہ تھی کہ ہر انسان سے اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ غلطیاں اور کو تاہیاں ہو جاتی ہیں۔لمبی بیماریاں ہے بے شک انسان کے لیے بڑے دکھ کا موجب ہوتی ہیں مگر لمبی بیماریوں سے مرنے والا بشر طیکہ وہ مومن ہو خدا تعالیٰ کی مغفرت کا مستحق ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی بیماری کے ایام میں توبہ کی توفیق دے دیتا ہے، استغفار کی توفیق دے دیتا ہے، دُعا کی توفیق دے دیتا ہے اور یہ سب چیزیں مل کر اُس کی مغفرت اور ترقی درجات کا باعث بن جاتی ہیں۔تیسری حکمت یہ ہے کہ ایسی لمبی بیماریوں میں چونکہ بیمار کے رشتہ دار بھی کثرت سے دعائیں کرتے ہیں اس لیے خدا کے حضور جب وہ دعائیں ظاہری صورت میں قبول ہونے والی نہیں ہو تیں تو وہ اُن دعاؤں کے بدلہ میں مرنے والے کی عاقبت کو درست کر دیتا ہے اور فرماتا ہے ہم نے اسے دنیا میں تو صحت نہیں دی مگر آخرت میں اس کی روح کو صحت دے دی ہے۔