خطبات محمود (جلد 25) — Page 134
خطبات محمود۔134 $1944 پھر تھک کر آپ اپنی آنکھوں کو بند کر لیتے۔کئی دفعہ آپ نے اسی طرح کیا۔آخر آپ نے زور لگا کر ، کیونکہ آخری وقت طاقت نہیں رہتی اپنی آنکھ کو کھولا اور نگاہ کو چکر دیتے ہوئے سرہانے کی طرف دیکھا۔نظر گھومتے گھومتے جب آپ کی نظر میرے چہرہ پر پڑی تو مجھے اس وقت ایسا کی محسوس ہوا جیسے آپ میری ہی تلاش میں تھے اور مجھے دیکھ کر آپ کو اطمینان ہو گیا۔اس کے لیے بعد آپ نے آنکھیں بند کر لیں۔آخری سانس لیا اور وفات پا گئے۔اس وقت میں نے سمجھا ہے کہ آپ کی نظر مجھ کو ہی تلاش کر رہی تھی اور میں نے اپنے ذہن میں سمجھا کہ میں جو دعائیں کر رہا تھا اُس کا یہ نتیجہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما دی کہ میں آخری وقت میں آپ کی آنکھوں کو دیکھ سکوں۔آپ کی وفات کے معابعد کچھ لوگ گھبرائے کہ اب کیا ہو گا۔انسان انسانوں پر نگاہ کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو یہ کام کرنے والا موجود تھا یہ تو اب فوت ہو گیا اب سلسلہ کا کیا بنے گا۔جب میں نے اس شخص کو گھبر ائے ہوئے اِدھر اُدھر پھرتے دیکھا۔اسی طرح بعض اور لوگ مجھے پریشان حال دکھائی دیئے اور میں نے ان کو یہ کہتے سنا کہ اب جماعت کا کیا حال ہو گا؟ تو مجھے یاد ہے گو میں اُس وقت انیس سال کا تھا مگر میں نے اُسی جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا کہ اے خدا! میں تجھ کو حاضر ناظر جان کر تجھ سے سچے دل سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت احمدیت سے پھر جائے تب بھی وہ پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ تو نے نازل فرمایا ہے میں اس کو دنیا کے کونہ کونہ میں پھیلاؤں گا۔انسانی زندگی میں کئی گھڑیاں آتی ہیں سستی کی بھی، چیستی کی بھی، علم کی بھی، جہالت کی بھی، اطاعت کی بھی، غفلت کی بھی۔مگر آج تک میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ میری گھڑی ایسی چستی کی گھڑی تھی، ایسی علم کی گھڑی تھی، ایسی عرفان کی گھڑی تھی کہ میرے جسم کا ہر ذرہ اس عہد میں شریک تھا اور اُس وقت میں یقین کرتا تھا کہ دنیا اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ مل کر بھی میرے اِس عہد اور اس ارادہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔شاید اگر دنیا میری باتوں کو سنتی تو وہ ان کو پاگل کی بڑ قرار دیتی۔بلکہ شاید کیا یقینا وہ اسے جنون اور کی