خطبات محمود (جلد 24) — Page 76
$1943 76 9 خطبات محمود انسانی اعمال کو پاکیزہ بنانے کے دو ذرائع۔علم اور نگرانی (فرمودہ 5 مارچ1943ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو اللہ تعالیٰ صحابہ کے ایک حصہ کو مخاطب کر کے قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وکیف تَكْفُرُونَ وَ اَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ أَيْتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ - 1 یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم کفر سے کام لیتے ہو حالانکہ تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور پھر اس کا رسول بھی تم میں موجود ہے۔جتنی نیکی انسان میں آتی ہے وہ در حقیقت دوہی ذریعوں سے آتی ہے۔یا تو اس بات کی وجہ سے نیکی آتی ہے کہ انسان سمجھتا ہے جس کام کو میں اختیار کرتا ہوں وہ اچھا ہے، فائدہ بخش ہے۔اس میں میری بھلائی ہے۔اس سے دوسرے لوگوں کو آرام ہو گا۔اس سے میرے اور خدا کے درمیان محبت بڑھے گی۔مثلاً انسان سچ بولتا ہے تو اس لئے بولتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے سچ بولا تو لوگوں میں اعتبار قائم ہو گا۔اور جب میں بات کروں گا تو اس امر کی ضرورت نہ ہو گی کہ میں کوئی گواہ لاتا پھروں۔میری بات سن کر لوگ آپ ہی مان لیں گے۔ان کو معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی راستباز آتا ہے اور وہ آکر کہتا ہے کہ بات یوں ہے تو بغیر شبہ اور خلش کے لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں۔لیکن جتنا کسی کی بات میں پیچ ہو ، دعا ہو ، فریب ہو وہ اگر سچی بات کہہ بھی دے اور دوسرے کو خیال بھی ہو کہ ایسا ہو سکتا ہے غالباً ایسا ہی ہو گا