خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 77

* 1943 77 خطبات محمود تب بھی وہ کہتا ہے کیوں نہ میں کسی اور سے بھی پوچھ لوں۔مگر سچ بولنے والے کا اتنا اعتبار ہوتا ہے کہ کتنی ہی غیر معمولی بات کیوں نہ ہو لوگ کہتے ہیں کہ یہ راستباز آدمی ہے۔سچ ہی کہا ہو گا۔لیکن اگر جھوٹا آدمی سچ بھی کہہ دے تب بھی یقین نہیں آتا۔مثلاً اگر وہ یہ کہے کہ میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔یہ روز مرہ کی بات ہے انسان کھانا کھاتا ہی ہے مگر تب بھی لوگ ہنس پڑیں گے کہ یہ ضرور دھوکا دے رہا ہے۔مگر سچا آدمی جس کی عمر راستبازی میں گزری ہو اگر وہ یہ کہہ دے کہ میں آسمان سے آیا ہوں تب بھی لوگ سمجھیں گے کہ ہم نے دیکھا ہوا ہے کہ یہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔اب بھی جو کہتا ہے ٹھیک ہو گا۔دیکھو حضرت رسول کریم صلی ا یم نے جب دعویٰ فرمایا۔جو لوگ آپ کی سچائی کے معتقد تھے وہ سنتے ہی ایمان لے آئے۔یہ آپ کے اعتبار کا ہی نتیجہ تھا کہ حضرت ابو بکر کو ہدایت ہوئی۔حضرت ابو بکر کہیں باہر گئے ہوئے تھے واپس آئے تو مکہ میں داخل ہوتے وقت آپ ایک جگہ اپنے ایک دوست کے گھر میں آرام کے لئے ٹھہر گئے اور اپنی چادر اوپر کے دھڑ سے اتار کر لیٹنے کا ارادہ کیا۔اس زمانہ میں کپڑوں کا اتنا رواج نہ تھا۔اب تو گاؤں والے بھی دو دو، تین تین کپڑے رکھتے ہیں۔مگر اُس وقت یہ رواج کم تھا۔اس زمانہ میں جیسے عور تیں ساڑھی پہنتی ہیں ویسی ہی ایک چادر سے لباس کا کام لیتے تھے۔اگر کوئی بہت زیادہ تمدن سے متاثر ہوتا تو وہ دو تین کپڑوں والا ہو تا تھا۔یہ نہیں کہ پہلے کپڑے نہ ہوتے تھے۔کپڑے تو تھے مگر تکلف کم تھا۔غرض حضرت ابو بکر نے چادر کا وہ حصہ جو اوپر کے دھڑ کو ڈھانپے ہوا تھا اتار کر لیٹنا چاہاہی تھا کہ ان کے دوست کی ایک لونڈی آئی۔عورتوں میں بات بنا کر کرنے کا شوق زیادہ ہو تا ہے۔وہ عجیب طریق سے بات کرتی ہیں۔حضرت ابو بکر چونکہ باہر گئے ہوئے تھے کہ حضرت رسول کریم صلی ایم نے اپنا دعویٰ پیش کر دیا۔لوگوں میں ایک شور پڑ گیا اور ایک آگ لگ گئی۔اس لونڈی نے بھی یہ شور سنا۔چونکہ اسے معلوم تھا کہ حضرت ابو بکر آپ کے دوست ہیں اس سے برداشت نہ ہو سکا کہ خاموش رہے اور مزے لے لے کر آپ کو سنانا شروع کیا۔ہائے ہائے، بیچارہ تیر ادوست پاگل ہو گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے پوچھا کون؟ اس نے کہا کون کیا؟ محمد اور کون؟ حضرت ابو بکر لیٹ رہے تھے فوراً اٹھے ، چادر کندھے پر ڈالی اور پوچھا وہ کیا کہتا ہے؟