خطبات محمود (جلد 24) — Page 61
$1943 61 خطبات محمود کہ اس کا کسی دوسرے کے ساتھ معاملہ پیش آئے۔ان وجوہ کی بناء پر قدرتی طور پر ہندوستان کا سمجھدار طبقہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ انگریز ہندوستان میں رہیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے میرے لئے ان کے ساتھ معاملہ کرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ جرمنوں کے ساتھ میرے معاملات طے ہوں۔اسی طرح ہندوستانیوں میں قدرتی طور پر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ انگریزوں نے ایک لمبے عرصہ تک حکومت کر لی ہے جس کی وجہ سے اب وہ حکومت سے سیر ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ہمیں انگریزوں کے ماتحت جتنی اپنی آزادی کی امید ہو سکتی ہے اتنی امید جرمنوں یا جاپانیوں کے ماتحت نہیں ہو سکتی۔ان تمام امور کی بناء پر ہندوستان کا وہ طبقہ جو سمجھدار ہے اور جو جذبات ت کو عقل پر حاکم نہیں ہونے دیتا انگریزوں سے ہمدردی رکھتا ہے۔مگر ایسی ہی ہمدردی جرمن یا جاپان والوں سے ان کے علاقہ کے رہنے والوں کو ہے۔پھر اگر ایک طرف ہمیں ایک ایسی رو نظر آتی ہے جو ظلم اور استبداد پر مبنی ہے تو دوسری طرف گو ایک حصہ مذہب کا پابند اور دین کا قائل ہے مگر ان کے اتحادیوں میں سے ایک دہر یہ جماعت بھی نظر آتی ہے جو مذہب کو دنیا سے مٹانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے۔ان سارے حالات میں ایک مومن کس یقینی رائے پر قائم ہو سکتا ہے اور وہ کون سی رو اور کون سی تحریک پر اعتماد کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ وہ کلی طور پر دین کے لئے مفید ہو گی۔جہاں کہیں ایک پھول نظر آتا ہے وہاں اس کے ساتھ دس کانٹے بھی اُگے ہوئے ہیں اور جہاں کہیں صحت کے لئے کوئی عمدہ اور کارآمد دوائی نظر آتی ہے وہاں بیماریوں کے دس سامان بھی نظر آجاتے ہیں۔پس کون سی چیز ہے جس پر ایک مومن اعتماد اور اعتبار کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ اگر یہ نتیجہ نکلے تو اسلام کے لئے اچھا ہو گا۔اگر جر من جیتے تو یقیناً فیسزم جو مذہب اور آزادی ضمیر کو کچل دیتی ہے انسان کو مدتوں تک اپنا غلام بنائے رکھے گی اور اگر اتحادی جیتیں تو گو ان کا ایک حصہ مذہب کا پابند ہے مگر انہی کے دامن کے ساتھ لڑکا ہوا ہمیں روس دکھائی دیتا ہے جو دہریت اور الحاد کی تائید کر رہا ہے۔پس اس وقت مومن کی مثال در حقیقت ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی عورت تھی۔جس کی ایک لڑکی مالی کو بیاہی ہوئی تھی اور دوسری لڑکی ایک کمہار سے بیاہی ہوئی تھی۔