خطبات محمود (جلد 24) — Page 60
$1943 60 خطبات محمود موجود ہیں مگر جرمنوں اور جاپانیوں کے ہمدرد نہیں۔ہندوستان میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو جرمنوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔بلکہ آجکل کو ئز لنگ (Quisling) 2 کی ایک نئی اصطلاح جو دنیا میں رائج ہے وہی بتاتی ہے کہ جرمنوں کے ہمدرد ہر ملک میں موجود ہیں۔فرانس میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو جرمنوں سے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ ان کا موجودہ وزیر اعظم تو بار بار اصرار سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ دنیا میں امن کا قیام اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب جرمنوں کو فتح حاصل ہو۔اسی طرح ایسے لوگ رومانیہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ہنگری میں بھی پائے جاتے ہیں۔بیلجئم میں بھی پائے جاتے ہیں۔ڈنمارک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ہالینڈ میں بھی پائے جاتے ہیں۔سپین میں بھی پائے جاتے ہیں۔امریکہ میں بھی پائے جاتے ہیں اور ہندوستان میں بھی پائے جاتے ہیں۔بلکہ عرب کی بغاوت نے بھی بتا دیا کہ وہاں بھی جرمنوں سے ہمدردی رکھنے والا عنصر موجود ہے۔اور ایران کی بغاوت نے بتادیا کہ وہاں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو جرمن قوم کی فتح کو پسند کرتے ہیں۔پس ایسے لوگ دنیا میں موجود ہیں جو جر من فتوحات کو اپنے ممالک کے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں دنیا میں ایسی جماعتیں بھی ہیں جو انگریزی فتح کو اپنے لئے زیادہ مفید خیال کرتی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جس کے فائدے جس جس حکومت سے وابستہ ہیں وہ اس حکومت کی فتح کو اپنے لئے بہتر خیال کرتا ہے۔ہندوستان چونکہ ایک لمبے عرصہ تک انگریزوں کے ماتحت رہ چکا ہے اور اس کا انگریزی حکومت سے خیالات اور علوم میں اتحاد ہو چکا ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جس قوم کے ماتحت کوئی شخص ایک لمبے عرصہ تک رہے اس کے جذبات ، احساسات اور افکار اس پر اثر کر جاتے ہیں۔اس لئے ہندوستان کے رہنے والے ، انگریزی پڑھنے ، انگریزی لٹریچر کو اپنے مطالعہ میں رکھنے اور ایک لمبے عرصہ تک انگریزوں کے ماتحت رہنے کی وجہ سے جس حد تک انگریزی جذبات اور احساسات سے متاثر ہو سکتے ہیں اس حد تک جرمن جذبات اور احساسات سے متاثر نہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ اس جنگ میں انگریزی حکومت کو فتح حاصل ہو۔اسی طرح انسان جس کے ساتھ ایک لمبے عرصہ تک رہے اس کے عیبوں سے واقف ہو جاتا ہے ، اس کی خوبیوں سے آگاہ ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔بہ نسبت اس کے