خطبات محمود (جلد 24) — Page 50
$1943 50 خطبات محمود اپنی یہ حالت ہو اور جس قوم کا ایک فرد بھی عبادت کا پابند نہ ہو اسے اس بات پر کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ دو کروڑ ترکوں میں سے چھ ترک ایسے ہیں جو سفر کی حالت میں نماز نہیں پڑھتے۔جس قوم کے تیس کروڑ افراد میں سے ایک فرد بھی اپنے مذہب کی بتائی ہوئی عبادت کو نہیں بجا لا تا اسے اس بات کی کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ دو کروڑ میں سے چھ شخص ایسے ہیں جو نماز نہیں پڑھتے۔مگر یہ اعتراض بھی تب ہو تاجب یہ تسلیم کیا جاتا کہ اسلام اپنی عملی صورت میں اس وقت دنیا میں موجود ہے۔مگر جہاں تک غیر احمدیوں کا سوال ہے وہ بھی یہ نہیں کہتے کہ اسلام اپنی اصل شکل میں دنیا میں موجود ہے۔اور احمدیوں کا تو سوال ہی نہیں۔ہمارے تو دعویٰ کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے دنیا میں بھیجا ہے تاکہ آپ اسلام کو اس کی اصل شکل وصورت میں پھر قائم کریں۔پس اگر ترکوں نے یہ کہا کہ سفر میں نماز کیا پڑھنی ہے تو اس کے معنے صرف اتنے ہیں کہ انہوں نے اپنے اس جواب سے ایک اور تصدیق اس امر کی بہم پہنچا دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے ضرور کوئی مامور مبعوث ہونا چاہیے کیونکہ آج خود مسلمانوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ اسلامی تعلیم پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔پس مسلمانوں کو اس جواب پر پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔وہ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالیں اور سوچیں کہ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کی نگاہیں خدا تعالیٰ کی طرف اُٹھیں اور اسے پکار کر کہیں کہ الہی ہماری حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ہم تیرے رحم کے طالب اور تیرے فضل کے خواستگار ہیں۔تو آپ ہمارے دلوں پر روشنی نازل فرما اور ہمیں اپنے نور سے منور کر۔اگر اللہ تعالیٰ کے حضور وہ اس طرح مضطر بانہ رنگ میں دعائیں کریں تو اللہ تعالیٰ اُن کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے گا کیونکہ واقعہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روشنی تو پیدا کر دی ہے مگر وہ تاریک کونوں میں چھپے بیٹھے ہیں اور اس نور سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے۔ایک سو سال سے زیادہ عرصہ گزرا کہ اسلام کے نام لیواد نیا کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے تھے اور تمام مسلمان خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے، عالم ہوں یا جاہل، مہذب ہوں یا غیر مہذب، تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ، سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، مشرقی ہوں یا مغربی، کسی ملک اور کسی علاقہ میں