خطبات محمود (جلد 24) — Page 51
$1943 51 خطبات محمود بستے ہوں اُن کے دلوں میں اسلام کی تعلیم کی کوئی عظمت باقی نہیں رہی تھی۔چنانچہ آج سے پچاس سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تمام نقشہ کھینچ کر رکھ دیا تھا۔ترکی وفد نے کون سی نئی بات بتائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھاع ہر کسے در کار خود بادین احمد کار نیست 2 ہر شخص کو اپنے اپنے کام سے تعلق ہے مگر رسول کریم صلی الم کے دین سے کسی کو کوئی واسطہ نہیں۔اسی طرح آپ نے فرمایا تھاع علیہ سیکسے شد دین احمد ، پیچ خویش و یار نیست 3 دین اسلام بے کس ہو گیا ہے اور کوئی اس کا دوست و مدد گار نہیں رہا۔یہ وہ چیز ہے جسے سلسلہ احمدیہ پچاس سال سے پیش کر رہا ہے اور ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ آج مسلمانوں کی یہی حالت ہو رہی ہے۔پھر اس کو اسلام کی ایک نئی شکست کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے۔یہ بیماری تو وہ ہے جس کا اعلان آج سے پچاس سال پہلے بلکہ اس سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام نے کر دیا تھا۔پس یہ کوئی نئی بیماری نہیں جو ہمارے سامنے پیش کی جائے۔دشمنانِ اسلام کو جو کچھ دیکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا اس بیماری کے علاج کا کوئی شفاخانہ دنیا میں قائم ہو چکا ہے یا نہیں۔اگر دنیا میں اس بیماری کے علاج کا شفاخانہ قائم ہو چکا ہے تو پھر اس میں ان کے لئے خوشی کا کون سا موقع ہے۔آج دوبارہ اسلام کی ترقی کے سامان خدا تعالیٰ نے پید اکر دیئے ہیں اور دوبارہ اسلام کی بنیادوں کی تعمیر کے لئے قادیان میں اس نے اپنا ایک انجینئر بھیج دیا ہے۔اس انجینئر نے اسلامی بنیادوں کو مضبوط کر کے اس پر اسلام کے رفیع الشان محل کی عمارت کو کھڑ اکر ناشر وع کر دیا ہے۔پس اگر کوئی دشمن اسلام اسلام کی گرتی ہوئی بنیاد کو دیکھ رہا ہے تو وہ اُن اُٹھتی ہوئی بنیادوں کو بھی دیکھے جس کے عظیم الشان محل میں دنیا کی تمام پاکیزہ روحوں کو لا کر اکٹھا کر دیا جائے گا۔اُن کو وہ چھ شکست خوردہ ذہنیت کے مالک مسلمان نظر آتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اُن کے گھروں کے سامنے خدا تعالیٰ کی یہ آواز بلند کی جارہی ہے کہ “ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔”کیا یہ آواز اُن کے کانوں میں نہیں آتی۔وہ محل جس کی دیوار میں