خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 49

خطبات محمود 49 * 1943 کچھ اسلام کہتا ہے اس کا یہاں سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آج کل مسلمانوں کی جو کچھ حالت ہو گئی ہے اس میں کیا ہونا چاہیے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ غیر اسلامی حالت ہے۔ہر قوم اپنے اپنے مفاد کے متعلق ایک پالیسی اختیار کر لیتی ہے اور اس پالیسی کو وہ دوسرے کاموں پر ترجیح دیتی ہے۔پس جہاں تک آزاد قوموں کا سوال ہے، جن کا گھر ہے وہ لازماً اپنے گھر کی حفاظت کو مقدم سمجھتی ہیں اور دوسروں کے گھروں کی حفاظت کو مؤخر قرار دیتی ہیں اور جن کا اپنا کوئی گھر نہیں وہ ہر قوم سے ہمدردی ظاہر کرتے ہیں جیسے ہندوستانی۔پس یہ کوئی نیا انکشاف نہیں جس پر ہندوؤں نے شور مچایا ہے۔مسلمان ایک صدی سے یہ تماشا دیکھتے چلے آئے ہیں۔اگر اس سے مسلمانوں کی کمزور حالت ثابت ہوتی ہے تو یہ کمزور حالت آج ثابت نہیں ہو رہی۔آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے بھی یہی حالت تھی اور اس سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا تو پھر اس پر رنج کا کون سا مقام ہے۔ہاں ایک بات ہے جو اہمیت رکھتی ہے اور اگر وہ سچ ہے تو واقع میں افسوسناک ہے۔اور وہ یہ کہ ایک سوال وفد سے یہ بھی کیا گیا کہ کیا آپ روزانہ نماز ادا کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ سفر میں نماز کیا پڑھنی ہے۔یہ جواب بتاتا ہے کہ اگر یہ بات سچی ہے تو ترکوں کا وہ وفد جو ہندوستان میں آیا ہے اس کے دل میں اسلام کی تعلیم نے پوری طرح گھر نہیں کیا۔ہم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ ساری ترکی قوم ایسی ہے کیونکہ بہر حال یہ چند افراد کا جواب ہے اور وہ اپنے فعل کے آپ ذمہ دار ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ ترکوں کے منتخب نمائندے ہیں۔پس بے شک ان کا فعل ایک قوم کا فعل قرار نہیں دیا جا سکتا مگر چونکہ ترکوں نے انہیں اپنا نمائندہ منتخب کر کے بھیجا ہے اس لئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ترکوں کی طرف سے جو نمائندے چُن کر بھیجے گئے ہیں اُن کے دلوں میں نماز کی جو اسلام کے ارکان میں سے ایک بہت بڑاڑ کن ہے کوئی عظمت نہیں۔پس یہ سوال ہے جو در حقیقت اہمیت رکھتا ہے مگر میرے نزدیک اس میں بھی ہندوؤں کے لئے خوش ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔میں نے خود ایک دفعہ ایک ہندو اخبار میں یہ لکھا ہوا دیکھا تھا کہ ہمارے ہاں سندھیا یعنی صبح کی عبادت کا جو طریق رائج ہے اس کا ہم میں سے ایک بھی پابند نہیں ہے۔جس قوم کی