خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 271

$1943 271 خطبات محمود اس قسم کی حالت غیرت کہلاتی ہے۔لیکن جب ایسا ہی فعل کسی انسان سے اُس وقت صادر ہو جب اس امر کے متعلق انتظار اس کے لئے یا اس کی قوم کے لئے مفید ہو اور اس انتظار میں کسی بہتری کی امید ہو اور جبکہ وہ چیز جس کے لئے اسے غصہ آیا ہے ایسی ہو کہ اس میں انسان کسی قسم کا سمجھوتہ کر سکتا ہے اور ایک حد تک یا کلی طور پر تو اس صورت میں یہ مقابلہ تہور اور دیوانگی کہلاتا ہے۔اس لئے کہ پہلی صورت میں جب انتظار کرنا یا نہ کرنا اس کے لئے برابر تھا۔اگر وہ انتظار کرتا تب بھی اور اگر انتظار نہ کر تائب بھی اسے کسی ایسی چیز کی قربانی دینی پڑتی تھی جسے قربان کرنا کسی صورت میں بھی کوئی انسان برداشت نہیں کر سکتا۔تو ایسی صورت میں اگر وہ دب جاتا ہے اور د ردشمن کا مقابلہ نہیں کرتا تو یقیناًوہ بے غیرت کہلائے گا کیونکہ گو وہ کمزور تھا مگر اس کے دب جانے سے اس کی قوم کو کیا فائدہ ہوا۔اگر وہ باوجود اپنی کمزوری کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جاتا اور اس مقابلہ میں اپنی جان دے دیتا تو کم سے کم دنیا میں اپنا نام چھوڑ جاتا اور لوگ یہ سمجھتے کہ اس نے مرنا قبول کر لیا مگر ذلت اور رسوائی کی زندگی کو برداشت نہیں کیا۔ان امور میں سے سب سے اہم چیز دین ہوتی ہے۔مثلاً کوئی بڑی بھاری طاقت یا حکومت ہو اور وہ ایک کمزور اور ضعیف انسان کو پکڑ کر کہے کہ تو خدا تعالیٰ کی عبادت چھوڑ دے یا مثلاً مذہب اور عقیدہ جسے انسان کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا اسے کوئی حکومت چھوڑنے کے لئے مجبور کرے تو چونکہ مذہب یا عقیدہ ایسی چیز نہیں جسے انسان ایک دن بلکہ ایک منٹ کے لئے بھی چھوڑ سکے اور نہ یہ ایسی چیز ہے جس کے متعلق انتظار اسے کوئی فائدہ دے سکے بلکہ ہر گھڑی جو مذہب کے بغیر گزرتی ہے وہ کفر میں گزرتی ہے۔ہر گھڑی جو مذہب کے بغیر گزرتی ہے وہ ظلمت اور تاریکی میں گزرتی ہے۔اس لئے ایسی صورت میں چاہے مقابل والا کیسا ہی زبر دست ہو اور جس نے مقابلہ کرنا ہے وہ چاہے کتنا ہی کمزور اور ناطاقت ہو جیسے کہا جاتا ہے چنا پہاڑ سے ٹکر ا گیا اسی طرح اگر اس کے دل میں غیرت ہو گی، اگر اس کے دل میں ایمان ہو گا تو وہ چنا پہاڑ سے ٹکرانے سے گریز نہیں کرے گا۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کمزور تھے، ناطاقت تھے ، کوئی دنیوی طاقت ان کے پاس نہ تھی، لڑنے کے سامان ان کے پاس موجود نہ تھے۔اُدھر نمرود جس سے مقابلہ کے لئے وہ کھڑے ہوئے وہ بادشاہ تھا، بڑی طاقت