خطبات محمود (جلد 24) — Page 179
خطبات محمود شرمندگی کا موجب نہیں ہو سکتا۔179 $1943 یہ ہے میرے دل کی وہ کیفیت جو اس وقت پیدا ہوئی جبکہ میں سمجھتا تھا کہ میرا ہر قدم کمزوری کی طرف جا رہا ہے اور بظاہر میرے سنبھلنے کی کوئی امید نہیں اور اس وقت میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اگر خدا مجھے توفیق دے تو میں ایک دفعہ جماعت کے سامنے اس حقیقت کو پوری طرح واضح کر دوں۔چنانچہ آج میں آپ لوگوں کو اپنے ان خیالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ممکن ہے جب بھی میری موت کا وقت آئے تم میں سے وہ لوگ جنہیں اسلام اور احمدیت کے لئے سزائیں دی گئی ہیں یہ سمجھیں کہ اب تو ضرور اس کے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی ہو گی کہ اس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی تھی مگر اس حالت میں سے ایک دفعہ میں پھر ہو کر آیا ہوں اور میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ میرے دل میں ہر گز کوئی شرمندگی نہ تھی بلکہ میرے دل میں یہ احساس تھا کہ میں نے کم سے کم اس بارہ میں خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔یاد رکھو کوئی دین اور کوئی سلسلہ دین اور سلسلہ کہلانے کا مستحق نہیں ہو تا جب تک اس کے آئین اور قوانین کی پابندی جس طرح دلوں میں ہے اسی طرح ظاہر میں بھی نہ کی جائے۔اگر ہم دنیا کے سامنے اسلام کی ایک آئندہ حکومت کا نقشہ کھینچتے چلے جاتے ہیں لیکن جہاں جہاں خدا نے ہمیں اس آئین اور قانون کو دنیا میں جاری کرنے کی طاقت بخشی ہے وہاں ہم اس آئین اور قانون کو جاری نہیں کرتے تو ہم ہر گز اپنے دعوی میں سچے نہیں کہلا سکتے اور نہ لوگوں کی نگاہ میں کسی عمدہ پروگرام کو جاری کرنے والے قرار پاسکتے ہیں۔صرف ایک ہی ذریعہ ہے جس سے ہم دنیا کو مسلمان کر سکتے ہیں اور وہ ذریعہ دنیا پر اس بات کو ثابت کر دینا ہے کہ ہم اپنے دعووں میں سنجیدہ اور بچے ہیں۔اگر دنیا کو یہ یقین پیدا ہو جائے کہ یہ جماعت اپنے دعوی میں سچی اور سنجیدہ ہے اور اس کو پورا کرنے کے لئے وہ ہر قربانی کرنے پر تیار ہے تو دنیا کی وہ مخالفت ، وہ دشمنی اور وہ شوخی اور شرارت جو ہمارے مقابلہ میں اختیار کی جاتی ہے ریت کی دیوار کی طرح گر جائے کیونکہ صداقت ہمارے پاس ہے۔اور صداقت کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔اگر دنیا کو کسی بات کی امید ہے تو وہ یہ کہ ہم صداقت کو چھوڑ کر بھاگ