خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 133

خطبات محمود 133 * 1943 گندم خریدی جائے اور یہی کمیٹی اس گندم کے خریدنے کا انتظام کرے۔صدر انجمن احمدیہ کو یہ بھی چاہئیے کہ وہ فوراً اپنی ضرورتوں کا اندازہ کرلے۔اسے بھی بہت سی گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً جلسہ سالانہ کے لئے گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔لنگر کے لئے گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔بورڈوں کے لئے گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس قسم کے تمام اخراجات کا اندازاہ لگا کر وہ کمیٹی کے سپر د کر دے اور اسے کہے کہ اتنا غلہ صدر انجمن احمد یہ اپنی ضرورتوں کے لئے خریدے گی۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ سال بھر کے لئے قادیان میں ہماری جماعت کو ہیں چھپیں ہزار من غلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔قادیان کی آبادی اب خدا تعالیٰ کے فضل سے بارہ ہزار کے قریب ہے۔دس سیر فی شخص کے حساب سے اگر ہم گندم کے خرچ کا اندازہ لگائیں تو 36 ہزار من غلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جلسہ سالانہ کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔مہمان جو انفرادی طور پر لوگوں کے ہاں آتے رہتے ہیں ان کا خرچ بھی اس میں شامل نہیں مگر جیسا کہ میں گزشتہ خطبہ میں بیان کر چکا ہوں لوگ ہمیشہ غلہ نہیں کھاتے بلکہ کبھی چاول بھی استعمال کر لیا کرتے ہیں۔پھر کبھی کسی دعوت میں شریک ہونا پڑتا ہے۔اسی طرح ایک حصہ آبادی کا ایسا بھی ہے جو احمدی نہیں۔ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میرا اندازہ یہ ہے کہ بیس پچیں ہزار من گندم سال بھر کے لئے کافی ہے۔مگر چونکہ اس میں کچھ حصہ زمینداروں کا ہے جو اپنے غلے کا آپ انتظام کرتا ہے اور وہ دوسروں کی مدد کا محتاج نہیں ہوتا۔اسی طرح بعض لوگوں کی تاجروں اور زمینداروں سے دوستیاں ہوتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ہمیں اس دوستی کی وجہ سے سستاغلہ مل جائے گا۔پھر بعض لوگوں کی رشتہ داریاں ہوتی ہیں اور وہ رشتہ داریوں کی وجہ سے ستا غلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ان وجوہ کی بناء پر میرا اندازہ یہ ہے کہ اگر کمیٹی چودہ پندرہ ہزار من غلے کا انتظام کرے تو قادیان والوں کی سال بھر کی ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔کمیٹی کو چاہیے کہ وہ گندم کی فراہمی کے لئے ساہوکاروں کو کمیشن دے دے اور ان کے ذریعہ گندم اکٹھی کرنے کی کوشش کرے تاکہ گزشتہ سال گندم کی فراہمی کے لئے لوگوں میں جو بھا گڑ مچی تھی وہ اس سال پیدا نہ ہو۔بعض معمولی اخراجات ہوتے ہیں مگر ان کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔اگر بجائے اس کے کہ دس ہیں آدمی ایک گاؤں میں گندم خریدنے کے لئے پہنچ جائیں