خطبات محمود (جلد 24) — Page 118
$1943 118 خطبات محمود شخص کو آٹے کے لئے اس قدر تکلیف ہوئی ہو سوائے اس کے کہ کسی نے بہت ہی نادانی کر کے اپنے حق کو زائل کر دیا ہو کیونکہ یہاں یا تو لوگوں کو غلہ کے لئے بطور قرض روپے دے دیئے گئے تھے یا غرباء میں غلہ مفت تقسیم کر دیا گیا تھا یا پھر باہر کی جماعتوں نے قادیان والوں کے لئے غلہ مہیا کر دیا تھا جو قادیان والوں کو باہر کے ریٹوں سے بہت سستا دیا جاتا رہا۔جب باہر سوا چھ اور سات روپے گندم کا بھاؤ تھا ہم قادیان میں سوا پانچ روپے پر دیتے رہے اور جب باہر آٹھ اور نو روپیہ ریٹ تھا ہم سات روپیہ پر دیتے رہے اور جب باہر گندم سولہ روپے پر بک رہی تھی ہم نے جو انتظام کیا اس کے مطابق قادیان والوں کو آٹھ روپے پر گندم ملتی رہی۔گویا باہر کے بھاؤ میں اور اس بھاؤ میں جس پر ہم نے قادیان میں گندم دی دو گنا فرق تھا۔اس وقت بھی ہمارے پاس کچھ گندم باقی تھی مگر باوجود اس کے کہ اس وقت امر تسر میں ساڑھے نو اور دس روپیہ قیمت ہے میں نے دفتر والوں سے کہا کہ اعلان کر دو کہ جن لوگوں نے روپیہ جمع کرا دیا ہوا ہے وہ آٹھ روپیہ کے حساب سے گندم لے لیں اور وہ نہ لیں تو دوسروں کو اسی قیمت پر گندم ر حقیقت یہ قیمت بھی اس لئے مقرر کرنی پڑی کہ جب گندم بہت گراں ہو گئی تو اس وقت بعض جگہ ساڑھے نو اور پونے دس دس روپے پر گندم خریدی گئی۔مگر اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں نے ہمیں سستی گندم دے دی۔اس لحاظ سے ہمیں اوسطاً آٹھ روپے قیمت مقرر کرنی پڑی ور نہ جو گندم ہم نے آٹھ روپے پر فروخت کی ہے اس کا کچھ حصہ ایسا ہے جو ساڑھے نو اور دس پر خریدا گیا ہے۔مگر چونکہ اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں سے سستی گندم مل گئی اس لئے تمام اخراجات ملا کر ایک اوسط قیمت مقرر کر دی گئی اور اس طرح قادیان والوں کو باہر کے مقابلہ میں پھر بھی سستی گندم مل گئی۔بہر حال اب پھر وہ دن آنے والے ہیں جب سال بھر کے لئے ہم میں سے ہر شخص کو تیاری کر لینی چاہیئے۔سب سے پہلے تو میں زمینداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ اب کے وہ یہ غلطی نہ کریں کہ تمام گندم فروخت کر دیں اور اپنی ضروریات کے لئے کچھ نہ رکھیں۔بلکہ جہاں تک ہو سکے اپنی ضرورت اور بیس فیصدی زائد گندم کا حساب کر کے اسے محفوظ کر لیا جائے۔یاد رکھو غلے کو بعض دفعہ کیڑا لگ جاتا ہے، بعض دفعہ غلہ گیلا ہو جاتا ہے ، پھر چھان دے دو۔در