خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 82

$1943 82 82 خطبات محمود نہیں کرتا۔یا سپاہی کی وردی صاف نہیں یا افسر وقت پر کام پر حاضر نہیں ہوتے۔لیکن اگر پتہ لگ جائے کہ گورنر صاحب دورہ پر آنے والے ہیں تو سپاہی فوراً اپنی وردیاں ٹھیک کرنے لگ جائیں گے۔شہر کی صفائی بھی ہونے لگ جائے گی کہ گورنر صاحب آرہے ہیں۔غرض دوسری چیز ستی کو روکنے والی یہ ہوتی ہے کہ نگران ہو۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِيكُمْ رَسُولُه تم میں تو اللہ کا رسول موجود ہے۔جہاں تمہارے علم کا سوال تھا وہ مہیا کر دیا، پھر نگرانی کا طریق مقرر کر دیا۔تم پراگندہ قوم نہیں ہو خدا نے نگران مقرر کر دیا ہے۔پھر کیوں ایسا کرتے ہو۔یہ حیرت انگیز چیز ہے۔مثلاً دیکھو بچہ کھیل رہا ہو، بالکل چھوٹا نہیں آٹھ ، دس سال کا ہو۔اس کو یہ بھی علم ہو کہ ایک پڑیا میں زہر ہے اور اس کے کھانے سے آدمی مر جاتا ہے۔پیاس بہت لگتی ہے ، خون کے دست آتے ہیں، سخت درد پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ اسے نہیں کھاتا۔اور اگر اسے کوئی روکنے والا موجود ہو تو اور بھی محتاط ہو جاتا ہے۔لیکن ان دونوں باتوں کے باوجود اگر کوئی بچہ زہر کھا جائے تو کتنے تعجب کی بات ہے لوگ اس بچہ کو یہی سمجھیں گے کہ پاگل ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیف تكْفُرُونَ کیہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ تم علم اور نگر ان کے ہوتے ہوئے نافرمانی کرتے ہو۔جب تم خود یہ کہتے ہو کہ وہ بچہ جس کو علم تھا کہ یہ زہر ہے اور جسے روکا بھی گیا تھا وہ زہر کھا گیا تو معلوم ہوا اس کا دماغ خراب تھا۔تو اپنے بارہ میں کیوں غور نہیں کرتے۔بچہ تو کمزور تھا مگر تمہاری یہ کیفیت ہے کہ اس سے بڑھ کر فعل کرتے ہو اور اپنے آپ کو پاگل نہیں سمجھتے۔جو مثال صحابہ کی تھی وہی آج ہماری ہے۔قرآن کریم بے شک رسول کریم صلی لینی پر نازل ہوا مگر آج بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو قرآن کریم کے معنی کئے ہیں ان کی وجہ سے ہمارے لئے وہ ایسا ہی ہے جیسے آج دوبارہ نازل ہوا ہے۔ہم میں وہی روح پیدا ہونی چاہیئے۔پھر ہم میں خدا کا رسول بھی موجود ہے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں مگر کوئی سال نہیں گزرتا کہ ہم آپ کے الہامات اور پیشگوئیاں پوری ہوتی نہ دیکھیں۔پھر انتظام خلافت بھی ہے ، مرکز ہے، جواب طلبی بھی کرتا ہے ، نگرانی کی جاتی ہے، مگر میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ کے عہدوں کو توڑتے ہیں اور پھر احمدی بھی