خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 65

$1943 65 خطبات محمود اگر کوئی تغیر اس ترقی کے مخالف ہو تب بھی اس کے فضل سے ایسا بیج بویا جائے جو بڑا ہو کر ایک دن لوگوں کو اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کے نیچے لے آئے۔غرض جہاں تک ظاہری سامانوں کا تعلق ہے جس طرف نظر اٹھتی ہے اسلام اور احمدیت کے مخالف سامان نظر آتے ہیں۔مگر جہاں تک خدا تعالیٰ کے سامانوں کا تعلق ہے وہ ہمارے حق میں ہے اور در حقیقت یہی وقت ہوتا ہے جب بندے کی دعائیں اس کے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی برکت کا باعث ہوتی ہیں۔جب خدا تعالیٰ کا فیصلہ بھی خلاف ہو اور دنیوی سامان بھی مخالف ہوں اس وقت وہی لوگ دنیا میں بس رہے ہوتے ہیں جو خد اتعالیٰ کے ضب کے مورد ہوتے ہیں۔بغداد کی جب تباہی ہوئی تو لوگ ایک بہت بڑے مشہور بزرگ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ بغداد میں مسلمانوں کو مغلوں کے حملوں سے بچائے۔انہوں نے کہا میں دعا تو کرتاہوں مگر کیا کروں جب میں اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھاتا ہوں مجھے آسمان سے فرشتوں کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے جو بڑے زور سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یايُّهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَّارَ - اے کافرو! بغداد کے ان فاسق و فاجر لوگوں کو قتل کر دو۔تو دیکھو اس وقت زمین کے حالات بھی خلاف تھے اور آسمان کے حالات بھی خلاف تھے۔اس لئے گو بعض دعائیں کرنے والے دعائیں کرتے تھے مگر اُن کی دعائیں رڈ کر دی جاتی تھیں کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت فسق و فجور میں مبتلا ہو چکی تھی۔اور جب زمین کے حالات بھی موافق ہوں اور آسمان کے حالات بھی موافق ہوں تو اس وقت دعا صرف نام کی چیز ہوتی ہے۔وہ دعا بھلا لوگوں کے دلوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طاقت اور قدرت کو وہ کیا ظاہر کر سکتی ہے۔ریل کا انجن جا رہا ہے۔ایک شخص کا پاؤں پھسلتا ہے اور وہ انجن کے آگے جا پڑتا ہے۔اس وقت اگر کوئی دشمن پاس سے گزر رہا ہو اور وہ دعا کرنے لگ جائے کہ یا اللہ ! یہ شخص مر جائے تو بے شک وہ مر جائے گا مگر اس دعا کا لوگوں پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ یہ کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہے۔ہر کوئی کہے گا کہ پاگل تجھے دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی وہ تو پہلے ہی مر رہا تھا۔ایک شخص کو ہیضہ ہو جاتا ہے، طاعون ہو جاتی ہے۔لوگ ان مرضوں سے بچ بھی جاتے ہیں۔مگر اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں جو مر جاتے ہیں۔اب اگر