خطبات محمود (جلد 24) — Page 66
$1943 66 خطبات محمود کسی شخص کو طاعون یا ہیضہ ہو جائے اور اس کا کوئی دشمن ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگ جائے کہ یا اللہ ! میرے دشمن کو ہلاک کر دے تو سب لوگ اسے کہیں گے کہ تیری اس دعا کا کیا فائدہ ہے وہ تو پہلے ہی مر رہا ہے۔تو جب آسمان کا فیصلہ بھی مخالف ہو اور زمین کے حالات بھی مخالف ہوں تب بھی دعا کا فائدہ نہیں ہوتا اور جب آسمان کے حالات موافق ہوں اور زمین کے حالات بھی موافق ہوں تب بھی دعا کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔وہ عبادت تو ہوتی ہے مگر اسے دنیا میں تغیر پیدا کرنے والی دعا نہیں کہا جاسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ پہلے ہی اس کے حق میں ہوتا ہے مگر جب زمین کے حالات موافق ہوں اور آسمان کے مخالف ہوں یا آسمان کے موافق ہوں اور زمین کے مخالف ہوں تب دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے۔اور وہی دعا ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔خصوصاًجب زمین کے حالات مخالف ہوں اور آسمان کے حالات موافق ہوں۔کیونکہ اس وقت دعا سننے والا دعا سننے پر تیار ہوتا ہے جب زمین کے حالات موافق ہوں اور آسمان کے مخالف تب دعا سننے والا اتنا تیار نہیں ہو تا جتنا اس وقت ہوتا ہے جب زمین کے حالات تو مخالف ہوں مگر آسمان کے حالات موافق ہوں۔اس وقت ہماری بھی یہی حالت ہے کہ زمین کے حالات ہمارے مخالف ہیں مگر آسمان کا فیصلہ ہمارے حق میں ہے۔ظاہری سامانوں کے لحاظ سے ایک طرف دہریت اپنا منہ کھولے کھڑی ہے۔ایک طرف فیسزم دنیا پر غالب آنا چاہتی ہے۔ایک طرف موجودہ فلسفہ اسلام اور احمدیت کے خلاف لوگوں کے دلوں میں زہر پیدا کر رہا ہے۔اور اگر ہمارے کان ہوں اور ہم زمانہ کی عملی آواز کو سن سکتے ہوں تو وہ ہمیں ہر وقت یہی کہتا نظر آرہا ہے کہ اسلام ختم ہوا، احمدیت برباد ہوئی۔مگر اس کے ساتھ ہی دوسری طرف آسمان سے ایک اور آواز ہمارے دوسرے کان میں آرہی ہے کہ دہریت ختم ہوئی، اسلام قائم کیا گیا، احمدیت غالب کی گئی اور خدا تعالیٰ کے فرشتے آسمان سے اس کی مدد کے لئے اتر رہے ہیں۔پس ہمارا ایک کان اگر ایک آواز سنتا ہے تو ہمارا دوسرا کان دوسری آواز سنتا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ یہی دعا کا بہترین وقت ہوتا ہے۔اس وقت خدا جب بندے کی دعا کو سنتا ہے تو وہ صرف بندے پر ہی فضل نہیں