خطبات محمود (جلد 24) — Page 58
$1943 58 خطبات محمود کے نیچے دفن کر کے گھروں میں واپس آجاتے ہیں۔اور انسان تو انسان چھوٹے چھوٹے کیڑے بھی اس سے نہیں ڈرتے۔بلکہ کیڑے اسے اپنی غذا بنا لیتے ہیں۔ایک حقیر اور کمزور انسان جس کا ادب اور احترام کسی کے دل میں بھی نہیں ہوتا وہ یکدم ایسی نمایاں ہستی بن جاتا ہے کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔یہ تمام باتیں اور نظارے جو ہمیں روزانہ نظر آتے ہیں جن کی صداقت پر دنیا کے تمام ممالک کی تاریخوں کے صفحات گواہ ہیں ہمیں اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ہمیں اپنے فیصلوں اور کاموں میں اپنی عقل اور سمجھ پر کلی طور پر انحصار کی عادت چھوڑ دینی چاہیئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف جو تمام غیبوں کو جاننے والا ہے ہمیشہ اپنے ارادوں اور خیالات کی باگ ڈور پھیر نی چاہیے کیونکہ اسی کے پاس جا کر اور اور اسی کے قرب میں رہ کر انسان ان چیزوں کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے جن کی حقیقت عام طور پر انسان کی نگاہ سے پوشیدہ ہوتی ہے۔یہی جنگ جو آجکل جاری ہے اسی کو دیکھ لو کس طرح تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اس میں مختلف دور آتے ہیں۔کبھی اس پر یہ دور آیا کہ یوں معلوم ہو تا تھا اب جر منی تباہ ہونے لگا۔پھر دوسرا دور آیا جس میں فرانس کی طاقت چند دنوں کے اندر اندر اس طرح کچلی گئی جس طرح کوئی بڑا بیل دیوار پر لٹکائی ہوئی یا کسی جھاڑی پر لٹکائی ہوئی رضائی کے پرزے اڑا دیتا ہے یا روئی دھنکنے والا روئی کو دھنک کر رکھ دیتا ہے۔وہ طاقت جو اکیلی ہی اپنے آپ کو جرمنی کا مد مقابل سمجھتی تھی جس نے آج سے ہیں سال پہلے جرمنی کے بعض علاقوں پر سالوں تک حکومت کی تھی اور جس کا جرمن لوگوں پر اس رنگ میں اقتدار چھایا ہوا تھا کہ گویا وہ اس حکومت کے مقابلہ میں بالکل بے کس اور بے بس تھے۔وہ بیس سال کے بعد سالوں میں نہیں، مہینوں میں نہیں دنوں میں اس طرح اُڑ گئی کہ اس کا نام و نشان تک نہ رہا۔اور دنیا نے یہ خیال کیا کہ اب جرمنی نہ معلوم کیا کر دے گا۔پھر اس کے بعد جنگ پر دوسرا دور آیا اور جرمنی کے ایک ساتھی کو مصر میں اتنی بڑی اور عظیم الشان شکست ہوئی کہ یہ خیال کر لیا گیا کہ اب انگریزی لشکر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا اور غالباً اٹلی کے ساحلوں پر ہی جا کر دم لے گا۔اور پھر اس میں تغیر پیدا ہوا اور دشمن نے آگے بڑھنا شروع کیا۔یہاں تک کہ لوگوں نے