خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 39

* 1943 39 خطبات محمود فائدہ پہنچائیں۔ان کی تعلیم اور قابلیت کے لوگوں کو جو سرکاری کام مل سکتے ہیں وہ تو دوسری قوموں کے لوگ بھی کر سکتے ہیں۔ہندو، سکھ ، غیر احمدی سب پرائمری مدرس اور پٹواری وغیرہ ہو سکتے ہیں مگر تبلیغ کا کام صرف احمدی ہی کر سکتے ہیں۔پس میں جماعتوں اور عہدیداروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ میرا یہ خطبہ سنا کر تحریک کریں کہ ایسے نوجوان جو اِس درجہ اور اس قابلیت کے ہوں اور تیار ہوں کہ سلسلہ کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیں ان کے نام ارسال کریں۔ہاں یہ مد نظر ہے کہ وہ دیندار ، نمازوں میں باقاعدہ اور دین میں ترقی کرنے کے خواہشمند ہوں۔لڑاکے نہ ہوں۔جھوٹ سے کلی طور پر بیچنے والے ہوں، دیانتدار ہوں اور محنتی بھی۔انہیں ایسی دینی تعلیم دے کر جو دیہات میں کام آسکتی ہو اور کچھ طب بھی سکھا کر باہر بھیجا جائے گا اور اس طرح وہ پریکٹس کر کے اپنی آمد بھی بڑھا سکیں گے۔اگر یہ دونوں قسم کے مبلغ ہوں ، ایک ایسے جیسے پرائمری سکولوں کے مدرس ہوتے ہیں اور دوسرے ایسے جیسے کالجوں اور سکولوں کے ہوتے ہیں تو تبلیغ کا کام بہت اچھی طرح ہو سکتا ہے۔بڑے مبلغ دورے کر کے ان کے کام کی نگرانی کریں گے۔بڑے بڑے شہروں میں لیکچر دیں گے اور تبلیغ کریں گے ، کتابیں لکھیں گے اور دیہات میں دیہاتی مبلغ ہی کام کریں گے کیونکہ دیہاتیوں کے لئے وہی زیادہ مؤثر باتیں کر سکتے ہیں۔وہ اگر کسی جگہ جائیں تو یہ امید نہیں رکھتے کہ ہمارے لئے بہت زیادہ صاف ستھرے بر تن لائے جائیں ، عُمدہ دستر خوان بچھایا جائے بلکہ جیسے برتن وغیرہ زمینداروں کے ہاں ہوتے ہیں اُن میں بے تکلفی سے کھا سکتے ہیں۔اور بالکل اُن جیسے ہی نظر آتے ہیں۔اس لئے دیہاتی ان کی باتوں کو زیادہ اچھی طرح سُن سکتے ہیں۔شہری لوگوں کا مذاق اور ہوتا ہے اور وہ گاؤں والوں کی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتا۔میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ یہ طریق بہت مفید ہو گا۔مگر ضرورت ہے کہ اسے جلد از جلد شروع کیا جا سکے۔جتنی جلدی ایسے نوجوان میسر آسکیں اتنی ہی جلدی ان کی تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔سر دست میرا ارادہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں تو مقامی تبلیغ کے شعبہ کے ماتحت گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں کام شروع کیا جائے۔ان علاقوں میں جماعتیں زیادہ ہیں۔پہلے ان اضلاع کے