خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 291

$1943 291 خطبات محمود بڑے تو یہی ہیں جو ایڈیٹر بھی تھے اور جن کو کثرت سے آپ کی باتیں سننے کا موقع ملا۔تیسرے پیر سراج الحق صاحب مرحوم تھے ان کو بھی خوب باتیں یاد تھیں۔مفتی صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب بدر اور الحکم کے ایڈیٹر تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان پر بعض دفعہ ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ یہ تو ہمارے لئے اس طرح ہیں جس طرح مردہ کے لئے منکر نکیر ہوتے ہیں۔ہم یونہی بات کرتے ہیں اور یہ چھاپ دیتے ہیں اور دشمن پیچھے پڑ جاتے ہیں۔مگر باوجود اس کے آپ ان کی بہت قدر کرتے تھے۔مفتی صاحب کو تو آپ اپنے خاص صحابہ میں شمار کیا کرتے تھے۔اسی طرح شیخ یعقوب علی صاحب بھی آپ کے بڑے مقرب اور پیارے تھے۔پس ان لوگوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ غیر مستند ہیں علم تاریخ سے ناواقفی کی بات ہے۔یہ ٹھیک نہیں کہ کسی روایت کو غلط دیکھ کر ان لوگوں کی ذات پر حملہ کیا جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ اگر بخاری کی کوئی حدیث سمجھ میں نہ آئے تو امام بخاری پر حملہ کیا جائے۔مسلم کی کوئی حدیث سمجھ میں نہ آئے تو امام مسلم پر حملہ کر دیا جائے۔پرانے مفسرین کی تفاسیر پر ہم آج سو سو جرح کرتے ہیں مگر یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مفسرین نا قابلِ اعتبار ہیں۔وہ لوگ اتنا کام کر گئے ہیں کہ اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو ہماری عمریں اس کام کی تکمیل میں صرف ہو جاتیں۔انہوں نے ہر لفظ پر صرفی اور نحوی بخشیں کی ہیں۔ہر عبارت پر معافی اور بیان کے لحاظ سے بحث کی ہے۔ایک ایک واقعہ پر تاریخ کے لحاظ سے بحث کی ہے۔ان میں بعض باتیں غلط بھی ہیں اور ٹھیک بھی ہیں۔مگر اس قدر ذخیرہ وہ لوگ جمع کر گئے ہیں کہ اگر وہ یہ کام نہ کرتے تو آج ہم یہ کام نہ کر سکتے جو کر رہے ہیں۔پس یہ کیسی حماقت اور ناشکری کی علامت ہے کہ کہا جائے کہ فلاں مفسر نے فلاں بات غلط لکھ دی۔اس لئے وہ نا قابلِ اعتبار ہے۔ابن حیان کی یہ بات صحیح نہیں، در منثور کی یہ روایت غلط ہے۔اس لئے وہ نا قابلِ اعتبار ہیں۔ایسا کہنا بڑا ظلم اور تعدی ہے۔ان کی ہزار باتوں میں سے اگر دو غلط ہیں تو کیا اگر وہ 998 باتیں جمع نہ کرتے تو ہم آج یہ کام کر لیتے جو کر رہے ہیں۔اگر وہ لوگ اس زمانہ میں ہوتے تو وہ ضرور اس علم میں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے ہماری شاگردی اختیار