خطبات محمود (جلد 24) — Page 292
$1943 292 خطبات محمود کرتے لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمیں بھی ان کی شاگردی حاصل ہے۔وہ ضرور ہمارے شاگرد ہوتے مگر ہم بھی ان کے شاگر د ہیں۔ان کی تحقیقات کی وجہ سے جو انہوں نے ہمارے لئے کیں اگر کوئی بات انہوں نے غلط لکھ دی تو کیا ہوا۔کیا انسان سے غلطیاں نہیں ہوتیں۔کیا کوئی غلط بات لکھی جانے کی وجہ سے سند ہی اڑ جاتی ہے۔ہمارے پاس یہی دو تین آدمی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی تاریخ سے واقف ہیں۔اگر یہ سچے نہیں تو معترض جسے سچا سمجھتا ہے اس کا نام پیش کرے۔میں اس کی روایات میں غلطی ثابت کر دوں گا مگر غلطی کی وجہ سے کسی کو غیر مستند اور نا قابلِ اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔میرے سامنے کی بات ہے حضرت خلیفہ اول نے قاضی امیر حسین صاحب کو ان سوالات کے بارہ میں جو پیغامیوں سے تعلق رکھتے تھے فرمایا کہ فلاں فلاں سے مشورہ کریں کہ ان کا کیا جواب دیا جائے۔قاضی صاحب ابھی پوچھ ہی رہے تھے کہ یہ لوگ حضرت خلیفہ اول کے پاس پہنچے اور معافی مانگ لی۔کچھ عرصہ بعد جب قاضی صاحب جوابات لے کر حضرت خلیفہ اول کے پاس آئے تو حضرت خلیفہ اول نے قاضی صاحب سے کہا کہ آپ کو کس نے کہا تھا کہ یہ باتیں لوگوں سے کریں۔حالانکہ قاضی صاحب کو آپ نے میرے سامنے فرمایا تھا مگر آپ بھول گئے۔اب اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ نَعُوذُ بِالله بے اعتبار ہیں کیونکہ انسان بھول بھی جاتا ہے۔پھر بعض اوقات انسان بات کا مطلب غلط سمجھ لیتا ہے مگر اس وجہ سے اسے غیر مستند نہیں کہا جا سکتا۔غیر مستند اور نا قابل اعتبار اسے کہا جاتا ہے جو غلط طریق اختیار کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے اگر کوئی ایسی بات کسی روایت میں ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چلن اور کیریکٹر کے خلاف ہو ، آپ کی عام تعلیم کے خلاف ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ راوی کو غلطی لگی ہے۔یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ غیر مستند ہے۔تو انسان کو اس علم کے بارہ میں جسے وہ جانتا نہیں بات کرتے وقت بہت احتیاط کرنی چاہیے۔ایسی بات کرنے والا شخص علم تاریخ سے قطع ناواقف ہے۔تاریخ کا علم بڑا پیچیدہ علم ہے۔کسی تاریخی بات کو سمجھنے کے لئے اس زنجیر کو سمجھنا بھی ضروری ہوتا ہے جس سے وہ بات چلتی ہے۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے علم میں دسترس رکھتا ہے تو اس کے