خطبات محمود (جلد 24) — Page 278
$1943 278 خطبات محمود موجود ہیں اور نہ روحانی سامان تمہارے پاس موجود ہیں۔پس خدا کا حکم یہ ہے کہ تم ان حالات میں دشمن سے ہر گز جنگ نہ کرو۔اگر کرو گے تو شکست کھاؤ گے کیونکہ فتح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ظاہری سامان تمہارے پاس ہوں یا روحانی سامان تمہارے پاس ہوں۔جب تمہارے پاس نہ روحانی ہتھیار ہیں اور نہ جسمانی ہتھیار ہیں تو تم ان دونوں کی عدم موجودگی میں دشمن سے یقیناً شکست کھاؤ گے۔میں اس وقت دنیا کی حالت پر جتنا بھی غور کرتا ہوں مجھے زیادہ سے زیادہ اس بات پر یقین ہو تا چلا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام کی فتح اور مسلمانوں کا غلبہ محض تبلیغ سے وابستہ ہے۔تبلیغ کے بغیر اسلام اور مسلمانوں کے غلبہ کی کوئی صورت نہیں۔ابھی کل سے لبنان کے متعلق عجیب و غریب خبریں آرہی ہیں۔شام اور لبنان وہ ملک ہیں جو کسی زمانہ میں ترکوں کے ماتحت تھے اور ترکوں کی طرف سے انہیں ہر قسم کی وہ آزادی حاصل تھی جو کسی ما تحت قوم کو دی جاتی ہے۔ان میں سے جرنیل بنائے جاتے تھے۔انہیں بڑے بڑے عہدے سپر د کئے جاتے تھے یہاں تک کہ وزراء بھی انہیں میں سے بنائے جاتے تھے۔گویا جس قدر بڑے بڑے عہدے ہیں خواہ وہ وزارتوں سے تعلق رکھتے ہوں یا اور محکموں سے وہ سب کے سب ان کو دئے جاتے تھے۔اس کے علاوہ بھی انہیں ہر قسم کی سہولتیں حاصل تھیں اور ترکوں کا ان سے سلوک نہایت اچھا تھا۔ترک اپنوں اور عربوں میں قطعا کوئی فرق نہیں کرتے تھے اور ہر گز یہ خیال نہیں کرتے تھے کہ ہم ترک ہیں اور یہ عرب۔اس لئے عہدے ہماری قوم کو ملنے چاہئیں عربوں کو نہیں ملنے چاہئیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ترکی حکومت کی طرف سے جو گورنر مقرر ہوا کرتے تھے وہ اکثر عادل نہیں ہوتے تھے مگر وہ گورنر بھی اپنے ظلم میں یہ امتیاز نہیں کیا کرتے تھے کہ فلاں ترک ہیں اور فلاں عرب۔صرف اتنا ہو تا تھا کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے اور رعایا کو خواہ ترک ہو یا عرب چھوٹا سمجھتے تھے اور ان پر ظلم کرتے تھے۔گویا عرب اور ترک میں ان کو کوئی امتیاز نہ تھا۔صرف چھوٹے اور بڑے کا فرق تھا۔جب گزشتہ جنگ ہوئی تو ان اقوام کو یورپ کی حکومتوں نے کہا کہ ہم تمہیں آزادی دے دیں گے تم اپنے حاکموں کے خلاف کھڑے ہو جاؤ۔چنانچہ یہ تو میں کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے اپنے حکام کے ساتھ