خطبات محمود (جلد 24) — Page 277
$1943 277 خطبات محمود خدا تعالیٰ کے وعدہ کے برتے اور بھروسے پر۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھی یہ سامان نہ تھے مگر ان سے بڑھ کر ان کے پاس سامان موجود تھا اور وہ خدا کا وعدہ تھا جو انہیں حاصل تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی ان سامانوں میں سے کوئی سامان موجود نہ تھا مگر ان سے بڑھ کر ایک اور سامان ان کے پاس تھا اور وہ خدا کا اپنی مدد اور نصرت نازل کرنے کا وعدہ تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس بھی ان سامانوں میں سے کوئی سامان موجود نہ تھا۔مگر ایک چیز تھی جس کے بھروسہ پر وہ تن تنہا دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور وہ خدا کا وعدہ تھا۔رسول کریم صل ا ل ل و نیم کے پاس بھی کامیابی کے ان ظاہری سامانوں میں سے کوئی سامان نہ تھا مگر ان سے بڑھ کر ایک اور چیز آپ کے پاس تھی اور وہ خدا کی مدد اور اس کی نصرت کا وعدہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھی ان سامانوں میں سے کوئی سامان موجود نہ تھا مگر ان سے بڑھ کر ایک اور سامان آپ کے پاس تھا اور وہ خدا کا وعدہ تھا کہ میں تجھے ضرور کامیاب کروں گا۔لیکن وہ مسلمان جو اس زمانہ میں جنگ کے لئے جانا چاہتے تھے ان کے ساتھ خدا کا کون سا وعدہ تھا کہ وہ انہیں کامیاب کرے گا بلکہ ہمیں تو الٹا یہ دکھائی دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ان کے خلاف تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے بھی کہا کہ رسول کریم صلی الی ایم نے یہ فرمایا ہے کہ مسیح موعود جنگوں کا التوا کر دے گا۔پس خدا تعالیٰ کا وعدہ جنگ کرنے والے مسلمانوں کی تائید میں نہیں بلکہ اس کے مخالف ہے۔اسی وجہ سے مسلمان اگر ان حالات میں دشمن کا مقابلہ کریں تو اسے تہور کہا جائے گا کیونکہ ان کے پاس وہ سامان نہیں جو مقابلہ کے لئے ضروری ہیں۔لیکن ویسے ہی حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو خد اتعالیٰ کے فرستادوں میں سے ایک عظیم الشان فرستادہ تھے جب دشمن کا مقابلہ کیا تو ان کے فعل کو تہور نہیں کہا جائے گا، جنون نہیں کہا جائے گا بلکہ ایک لازمی اور ضروری فرض کہا جائے گا جو انہوں نے ادا کیا کیونکہ آپ کے پاس ان سامانوں سے بہتر سامان موجود تھا۔صرف فرق یہ ہے کہ آپ کے پاس مادی سامان موجود نہ تھے، روحانی سامان آپ کے پاس تھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کو بتایا کہ تمہارے پاس تو دونوں سامان موجود نہیں۔نہ مادی سامان تمہارے پاس