خطبات محمود (جلد 24) — Page 253
خطبات محمود 253 * 1943 لیکن چونکہ ان کے ہاتھ پاؤں چلتے نہیں تھے اس لئے وہ کوئی عملی قدم نہ اٹھا سکے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ کوئی بوڑھا شخص کسی طبیب کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے یہ تکلیف ہے، وہ تکلیف ہے ، یہ عارضہ ہے ، وہ عارضہ ہے۔طبیب نے دیکھا کہ اس کی عمر بڑی ہو چکی ہے اور یہ تکلیفیں اب مستقل شکل اختیار کر چکی ہیں، دواؤں سے جانے والی نہیں۔اس لئے جب بھی وہ کوئی تکلیف بیان کرتا طبیب کہہ دیتا ہاں ٹھیک ہے۔تقاضائے عمر ہے۔پانچ سات دفعہ اس نے شکایتیں بیان کیں اور پانچ سات دفعہ ہی طبیب یہی کہتا رہا کہ آپ درست کہتے ہیں مگر عمر کا تقاضا ہی ایسا ہے۔جب بار بار طبیب نے ایسا کہا تو اسے غصہ آگیا کہ یہ عجیب طبیب ہے۔اور اسے گالیاں دینے لگ گیا کہ تُو بڑا خبیث اور بے ایمان ہے۔تیرا کام نسخہ لکھ کر دینا ہے یا ہر بات پر یہ کہہ دینا ہے کہ یہ نقاضائے عمر ہے۔جب وہ اپنا جوش نکال چکا تو طبیب کہنے لگا یہ بھی تقاضائے عمر ہے۔تو ان کے اندر جوش تو پید ا ہوا مگر جلسہ نہ ہوا۔یہ بھی تقاضائے عمر ہی تھا۔مگر بہر حال میں نے جان بوجھ کر انصار اللہ میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی رکھا تھا جن کا تقاضائے عمر کام کرنا ہو۔تقاضائے عمر کام نہ کرنانہ ہو۔میں نے چالیس سال سے اوپر عمر والوں کو انصار اللہ میں شامل کیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ایک بڑا طبقہ ایسے لوگوں کا ان کے پاس موجود ہے جو اپنے اندر کام کرنے کی روح رکھتا ہے اور طاقت و قوت کے لحاظ سے بھی وہ نوجوانوں سے کم نہیں۔ساٹھ سال سے اوپر جا کر انسان کے قویٰ میں انحطاط شروع ہوتا ہے بلکہ رسول کریم ملی ایم کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تریسٹھ سال سے اوپر کی عمر والوں کے متعلق بھی یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اب اس عمر والوں کا بیٹھنے کا زمانہ ہے، کام کرنے کا نہیں۔اس سے نیچے نیچے ہر شخص سوائے کسی معذور یا بیمار کے اپنے اندر کام کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔پس جو عمران کے لئے رکھی گئی ہے اس کے لحاظ سے ایک بہت بڑا حصہ جواں ہمت لوگوں کا ان کے اندر پایا جاتا ہے۔اور وہ اگر چاہیں تو اچھی طرح کام کر سکتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں کو آگے آنے اور کام کرنے کا موقع دیا جاتا اور زیادہ عمر کے لوگ صرف نگرانی اور محافظت کا کام کرتے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ ایک طرف تو نوجوان بڑوں کی نگرانی میں کام کرنے کا طریق سیکھ جاتے اور دوسری طرف وہ جوش سے کام لے کر لوگوں کے اندر بیداری