خطبات محمود (جلد 24) — Page 252
$1943 252 خطبات محمود گزر رہے ہیں اور یہ آخری حصہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو چھوڑ کر اگلے جہان جانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اگلے جہان جا رہا ہو تو اس وقت اسے اپنے حساب کی صفائی کا بہت زیادہ خیال ہوتا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ ایسی حالت میں اس دنیا سے کوچ نہ کر جائے کہ اس کا حساب گندہ ہو ، اس کے اعمال خراب ہوں اور اس کے پاس وہ زادِ راہ نہ ہو جو اگلے جہان میں کام آنے والا ہے۔جب احمدیت کی غرض یہی ہے کہ بندے اور خدا کا تعلق درست ہو جائے تو ایسی عمر میں اور عمر کے ایسے حصہ میں اس کا جس قدر احساس ایک مومن کو ہونا چاہیے وہ کسی شخص سے مخفی نہیں ہو سکتا۔نوجوان تو خیال بھی کر سکتے ہیں کہ اگر ہم سے خدمتِ خلق میں کو تاہی ہوئی تو انصار اللہ اس کام کو ٹھیک کر لیں گے مگر انصار اللہ کس پر انحصار کر سکتے ہیں۔وہ اگر اپنے فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی سے کام لیں گے ، وہ اگر دین کی محبت اپنے نفوس میں اور پھر تمام دنیا کے قلوب میں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے ، وہ اگر احمدیت کی اشاعت کو اپنا اولین مقصد قرار نہ دیں گے اور وہ اگر اس حقیقت سے اغماض کر لیں گے کہ انہوں نے اسلام کو دنیا میں پھر زندہ کرنا ہے تو انصار اللہ کی عمر کے بعد اور کون سی عمر ہے جس میں وہ یہ کام کریں گے۔انصار اللہ کی عمر کے بعد تو پھر ملک الموت کا زمانہ ہے اور ملک الموت اصلاح کے لئے نہیں آتا بلکہ وہ اس مقام پر کھڑا کرنے کے لئے آتا ہے جب کوئی انسان سزا یا انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس میں ایک دفعہ پھر انصار اللہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں۔ایک دفعہ پہلے بھی میں نے انہیں کہا کہ وہ بھی خدام الاحمدیہ کی طرح سال میں ایک دفعہ خاص طور پر باہر سے لوگوں کو بلوایا کریں تاکہ ان کے ساتھ مل کر اور گفتگو اور بحث و تمحیص کر کے انہیں دوسروں کی مشکلات کا احساس ہو اور وہ پہلے سے زیادہ ترقی کی طرف قدم اٹھا سکیں۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے مشورہ سے انسان بہت کچھ فائدہ اٹھالیتا ہے۔غالباً ایک سال ہو ا جب میں نے اس امر کی طرف انہیں توجہ دلائی تھی مگر اب تک انصار اللہ کا کوئی جلسہ نہیں ہوا۔یہ بات بھی ان کی مردنی پر دلالت کرتی ہے۔پچھلی دفعہ جب خدام الاحمدیہ کا جلسہ ہوا تو میں نے بعض انصار اللہ کی آوازیں سنیں کہ ہم کو بھی آئندہ ایسا جلسہ کرنا چاہیئے۔مگر عمر کا تقاضا تھا کہ انہوں نے کہنے کو تو یہ بات کہہ دی