خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 251

خطبات محمود 251 * 1943 اور وہ ان سب حالات کو دیکھ کر سوچتا، غور کرتا، ان سے نتائج اخذ کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے آب میں جانے کے لئے تیار ہوں۔اب میرا کام یہی ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا حساب کرلوں۔پس اس وقت وہ حساب کر رہا ہوتا ہے اور جو شخص حساب کر رہا ہو اس کی توجہ کسی اور طرف نہیں ہوتی۔رات کو سوتے وقت جب بنیا اپنے تمام دن کی آمد کا حساب کر رہا ہو اس وقت اگر تم بننے سے سودا مانگو تو تم دیکھو گے کہ وہ اس وقت سخت چڑ چڑا ہوتا ہے کیونکہ وہ اس وقت حساب کر رہا ہوتا ہے۔سودا دینے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس وقت اس کی جگہ کوئی اور آدمی دکان پر ہو۔پس ایسے آدمی جہاں تک حساب کا تعلق ہے بے شک مفید ہوتے ہیں مگر ایسی عمر والوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کبھی لاہور جائیں، کبھی پشاور جائیں، کبھی انبالے جائیں، کبھی گوجر انوالہ جائیں اور سب لوگوں سے کہتے پھریں کہ اٹھو اور بیدار ہو جاؤ اسلام پر بڑا نازک وقت آیا ہوا ہے۔جماعت پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے۔اگر تم اس ذمہ داری کو ادانہ کرو گے تو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جواب دو گے۔یہ کام وہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا یہ زمانہ گزر چکا ہوتا ہے۔پس میں نے انصار اللہ کے لئے جو چالیس سال سے اوپر عمر کی شرط لگائی تھی اس کی وجہ یہی تھی کہ میں چاہتا تھا ان کو کام کرنے کے لئے وہ جواں ہمت لوگ بھی مل جائیں جن پر ابھی جوانی جیسا ہی زمانہ ہوتا ہے اور جو اپنے اندر کام کرنے کی کافی طاقت رکھتے ہیں اور ایسے آدمی بھی میسر آجائیں جن کے دماغ اعلیٰ درجہ کے ہوں اور جو لوگوں کی نگرانی کا کام پوری احتیاط کے ساتھ کر سکیں مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔اور صرف ایسے ہی لوگوں کو لے لیا گیا جن کا نام میں نے لیا تھا۔حالانکہ میں نے وہ نام اس لئے لئے تھے کہ میرے نزدیک وہ نگران اور محافظ بن سکتے تھے۔نہ اس لئے کہ وہ دوڑنے بھاگنے کا کام بھی کر سکتے تھے۔اس قسم کے کام کرنے کے لئے انہیں چاہیئے تھا کہ وہ ایسے لوگ سیکرٹریوں کے ساتھ مقرر کر دیتے جن کے قویٰ میں طاقت ہوتی، جن کے ہاتھوں اور پاؤں میں چلنے پھرنے اور دوڑنے بھاگنے کی ہمت ہوتی تاکہ وہ اپنے مفوضہ فرائض کو عمدگی سے سر انجام دے سکتے۔میں سمجھتا ہوں انصار اللہ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے۔وہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں سے