خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 219

خطبات محمود 219 $1943 واسطہ ہوتا ہے۔ہم مٹی کا ایک کھلونا بناتے ہیں۔جہاں تک اس کی ظاہری شکل کا تعلق ہے اس کی تیاری کی کیفیتوں سے ہم واقف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کتنا خلا ہے۔اس کا سر ٹھوس ہے یا اندر سے خالی ہے۔لیکن ہمارا علم اس کے متعلق اس وقت سے شروع ہوا جب کھلونا بنانے کے لئے ہم نے مٹی کو گیلا کیا۔اس سے قبل مٹی پر جو جو حالات گزرے اور وہ جن جن کیفیتوں سے گزری ہے ان سے ہم واقف نہیں ہو سکتے۔مٹی کو گیلا کرنے کے بعد سے اس کا کھلونا بنانے تک کی حالتوں سے تو ہم آگاہ ہو سکتے ہیں مگر اس سے پہلے کی حالتوں کے بارہ میں ہمیں کوئی علم نہیں۔جو حالت ہمارے ہاتھ سے اس پر وارد نہیں ہوئی اس کے متعلق ہم نہ تو کچھ کہہ سکتے ہیں اور نہ اس کے ذمہ دار ہیں۔لیکن جو ہستی پہلی حالتوں کی بھی واقف ہو۔وہ ساری کی ساری کیفیات کو جان سکتی ہے۔ایک بڑھئی لکڑی کی کوئی چیز بناتا ہے۔وہ بتا سکتا ہے کہ یہ اس طرح بنائی گئی ہے۔مگر لکڑی کے اندر اگر کوئی مخفی کیڑا ایسا ہو جسے انسان نہیں جانتا اور ایسا باریک ہو کہ نظر بھی نہ آتا ہو اور وہ چند ہی روز میں اس لکڑی کو کھالے اور اس چیز کو برباد کر دے تو اس بڑھئی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی کیونکہ لکڑی کی تمام حالتوں اور کیفیتوں کا اسے کوئی علم نہیں ہو سکتا۔تمام وہ حالتیں جو شروع سے آخر تک کسی چیز پر گزری ہیں ان کا علم رب کو ہی ہو سکتا ہے۔اور حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں ابلغكُم رِسلتِ رَبِّي کہ میں تمہیں وہ رسالات پہنچاتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے ہیں۔اور رب وہ ہے جو میری تمام طاقتوں اور قوتوں کو جانتا ہے۔اور اس لئے وہ مجھے کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتا جو میری طاقت اور قوت سے باہر ہو۔اگر اس نے ان پیغاموں کو پہنچانے کا مجھے حکم دیا ہے تو وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میں ان کو پہنچا سکوں گا اور تمہیں زیر کر سکوں گا۔ایک ناواقف شخص تو کسی کی طاقت سے زیادہ بوجھ اس پر لاد سکتا ہے اور اسے حکم دے سکتا ہے کہ اسے اٹھا کر فلاں مقام پر لے جاؤ۔حالانکہ ممکن ہے اس میں اتنا بوجھ اٹھا کر وہاں تک پہنچنے کی ہمت نہ ہو۔اور وہ پہلی منزل پر پہنچ کر ہی رہ جائے۔مگر خدا تعالیٰ جو میری طاقتوں سے پوری طرح واقف ہے۔وہ جب کوئی پیغام مجھے دیتا ہے تو وہ یقیناً ایسا ہی ہے جو میں پہنچا سکتا ہوں۔تو حضرت نوح علیہ السلام نے رسلت ربّی کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میں ضرور کامیاب ہوں گا۔کیونکہ یہ