خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 220

$1943 220 خطبات محمود اس کا پیغام ہے۔اور جو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ تک پہنچاتا ہے وہ اس حالت سے بھی واقف ہے جو باپ کے نطفہ میں تھی اور پھر وہ ماں کے رحم میں رہنے کے حالات سے بھی واقف ہے۔میں جب پیدا ہوا تو اس کے حکم سے ہوا۔ماں کی چھاتیوں میں میرے لئے دودھ اسی کے حکم سے پیدا ہوا۔جتنے بھی تغیرات لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں سالوں سے ہوتے آئے ہیں وہ اس کے حکم اور اس کے علم سے ہوئے ہیں۔اس لئے وہ میری طاقتوں اور قوتوں سے جتنا واقف ہے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔بلکہ میں خود بھی اتنا واقف نہیں ہو سکتا۔اور جب وہ مجھے کہتا ہے کہ یہ پیغام پہنچا دو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ میں یقیناً اسے پہنچا سکوں گا۔وہ میری طاقتوں کو خوب جانتا ہے۔اور پھر جو پیغام اس نے دیا ہے وہ اپنے اندر ایسی خوبیاں رکھتا ہے کہ وہ ضرور پہنچایا جاتا ہے۔اور جس قوم کو وہ پیغام دیا جاتا ہے وہ بھی یہ طاقت رکھتی ہے کہ اسے سن سکے کیونکہ یہ پیغام ان کے رب کی طرف سے ہے جو ان کی طاقتوں سے خوب واقف ہے۔اس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ غلط پیغام دے گا یا اسے دے گا جس میں اسے پہنچانے کی طاقت نہ ہو۔دوسر الفظ اس جملہ میں رسلت کا ہے۔اس سے بتایا کہ میرے رب نے یہ باتیں مجھے بطور پیغام دی ہیں۔یعنی اس کام میں دوسروں کی طاقت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔تمہاری طاقت کا بھی لحاظ رکھا ہے۔اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس پیغام کو ماننے کی تم میں طاقت نہیں ہے۔غرض رِسلت کا لفظ استعمال کر کے گویا حضرت نوح یہ بتاتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہ توفیق دی ہے کہ میں اسے پہنچا سکوں۔اور تمہارے اندر بھی یہ طاقت رکھی ہے کہ اسے قبول کر سکو۔تیسر ا اشارہ حضرت نوح کے اس جملہ میں ابلفلم کے لفظ میں پایا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں میں خوب اچھی طرح اس پیغام کو پہنچارہا ہوں اور پہنچاؤں گا۔بعض دفعہ ایک انسان کوئی کام کرنے کے قابل تو ہوتا ہے مگر وہ اپنی تمام طاقتیں استعمال نہیں کرتا مگر تبلیغ کے لفظ نے بتا دیا ہے کہ جہاں حضرت نوح اپنی قابلیت کا اعتراف کرتے ہیں اور پیغام ایسا ہے کہ پہنچایا جاسکے اور سننے والے اسے سننے اور قبول کر لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔وہاں وہ اس امر کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ میں اپنے فرض کو کما حقہ ادا کرتا ہوں۔اور پیغام کو پوری طرح پہنچارہا ہوں۔یہ تینوں امر کسی تعلیم کو دوسرے تک پہنچانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔