خطبات محمود (جلد 24) — Page 140
$1943 140 خطبات محمود نہیں۔اول تو روزانہ کوئی شخص دوسرے کی روٹی کا محتاج نہیں ہوتا۔وہ خود بھی اپنی روزی کے لئے جد و جہد کرتا ہے۔لیکن اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ کوئی شخص ایسا ہے جسے روزانہ روٹی کی ضرورت ہے تو اس صورت میں بھی کسی ایک شخص کو ہمیشہ فاقہ نہیں کرنا پڑتا بلکہ کئی لوگوں پر تقسیم ہو کر یہ بوجھ بہت ہلکا ہو جاتا ہے اور اس طرح ہر شخص ہمسایہ کی مدد کر کے ثواب حاصل کر سکتا ہے۔پس غریب یہ نہ سمجھے کہ میں غریب ہوں اور اس وجہ سے اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ غریب پر بھی ذمہ داریاں ہیں اور امیر پر بھی ذمہ داریاں ہیں۔نہ امیر اپنی ذمہ داریوں کو ترک کر سکتے ہیں نہ غریب اپنی غربت کی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کو ترک کرنے میں حق بجانب سمجھے جاسکتے ہیں۔جب قوم پر اجتماعی رنگ میں تکلیف کا وقت آئے تو اس وقت ہر شخص کا فرض ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی مدد کرے۔امیر کا فرض ہو تا ہے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق مدد کرے اور غریب کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے دائرہ کے مطابق مدد کرے۔غریب یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں چونکہ غریب ہوں اس لئے مدد نہیں کرتا۔اگر مددنہ ملنے کی وجہ سے کسی شخص کی ہلاکت ہو جائے تو اس کی ذمہ داری غرباء پر بھی ہو گی اور امراء پر بھی۔ایک امیر شخص جس کے دس نوکر ہوں اگر اس کا کوئی بچہ کوئیں میں گر جائے اور سب نو کر اس وقت موجود ہوں تو آقا صرف اس بچے کو کھلانے والے خادم کو سزا نہیں دے گا بلکہ جس قدر نوکر اس وقت موجود ہوں گے ان سب کو سزا دے گا۔باغبان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا کام تو شاخ تراشی اور بیج لگانا اور درختوں کو پانی دینا ہے۔میرایہ کام نہیں تھا کہ میں بچہ کی جان بچاتا۔سائیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا کام گھوڑے کو دانہ کھلانا اور اس کی رکھوالی کرنا ہے۔میرا یہ فرض نہیں تھا کہ میں بچہ کی جان بچاتا۔فراش یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا کام تو آپ نے فرش بچھانا اور اسے صاف رکھنا مقرر کیا ہوا ہے۔میر افرض یہ کہاں تھا کہ میں بچہ کی بھی جان بچاتا۔دربان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا کام تو آپ نے دربانی مقرر کیا ہوا ہے میں نے اگر بچے کی جان نہیں بچائی تو اس میں میرا کیا قصور ہے بلکہ وہ ساروں سے خفا ہو گا اور سب اس قصور کی سزا پائیں گے۔اسی طرح جب اللہ تعالیٰ کے کسی بندے پر مصیبت آتی ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ فلاں امیر تھا اور فلاں غریب، بلکہ وہ کہتا ہے جب مصیبت آگئی تو ہر ایک کا فرض تھا کہ اس کی