خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 136

* 1943 136 خطبات محمود کافی ہیں۔وہ مقامی ضروریات کا خیال رکھ کر زائد گندم اپنے پاس محفوظ رکھیں تاکہ جب قادیان میں گندم کی ضرورت ہو تو ان سے منگوائی جاسکے۔یہ تو لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ظاہری تدابیر ہیں۔سب سے بڑی ضرورت جو میرے نزدیک ان ایام میں ہے وہ یہ ہے کہ ان مشکلات کے ایام میں ہر شخص اپنے رب پر توکل کرے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان پر جب بھی ابتلاء آتے ہیں اس کے ایمان کی آزمائش کے لئے آتے ہیں۔مگر یہ ابتلاء کبھی تو ایسی حالت میں آتے ہیں جب انسان سمجھتا ہے کہ میرے ایمان کی آزمائش ہو رہی ہے اور کبھی ایسی حالت میں آتے ہیں جب اسے اس بات کا احساس تک نہیں ہو تا کہ اس کے ایمان کی آزمائش کی جارہی ہے۔جب انسان کو علم ہو کہ میرے ایمان کی ابتلاؤں کے ذریعہ آزمائش کی جارہی ہے تو اس وقت فیل ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کی آزمائش میں پورا نہ اترنا بڑا خطرناک ہوتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ بعض دفعہ اکیلے اکیلے شخص پر ابتلاء آتا ہے اور اسے یہ پتہ نہیں لگتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے ایمان کی آزمائش ہو رہی ہے مگر بعض دفعہ اجتماعی رنگ میں ابتلاء آتا ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ یہ ابتلاء خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس وقت اگر کوئی شخص کو تاہی کر جاتا اور آزمائش میں پورا نہیں اثر تا تو یہ بہت زیادہ افسوسناک ہوتا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ خدا ایک ہے جو اپنے بندوں کو رزق مہیا کرتا ہے۔اگر اس ابتلاء کے نتیجہ میں بعض کی تباہی مقدر ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ انہوں نے فاقہ سے مر جانا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ سے بچ نہیں سکتے اور اگر کسی کے لئے معمولی تکلیف مقدر ہے تو اسے بھی تکلیف پہنچ کر رہے گی مگر دونوں صورتوں میں جماعت کے لئے ثواب حاصل کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔اس کے لئے بھی ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے جس کے پاس غذا ہے اور اس کے لئے بھی ثواب حاصل کرنے کا موقع ہے جس کے پاس کوئی غذا نہیں۔جس کے پاس کوئی غذا نہیں اگر وہ بھوک سے گھبراتا نہیں، اللہ تعالیٰ پر بدظنی سے کام نہیں لیتا اور صبر سے مصیبت کو برداشت کرتا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ثواب کو حاصل کرتا ہے اور جس کے پاس غذا تو ہے مگر تھوڑی لیکن جیسا کہ قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق آتا ہے وہ خود بھوکا رہتے اور دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں اسی طرح وہ یہ پسند نہیں کرتا