خطبات محمود (جلد 24) — Page 129
$1943 129 خطبات محمود اسی نرخ پر ہم لوگوں کو دیتے چلے گئے۔یہ بھاؤ بے شک شروع کے نرخ کے مقابلہ میں گراں تھا مگر وقتی نرخ کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ صرف جماعتی جد وجہد اور نظام کی وجہ سے انہیں مقابلہ ستا مل گیا۔بہر حال جن لوگوں نے میری متواتر ہدایات کے باوجود غلہ نہ خریدا انہیں گزشتہ سال کافی پریشانی اٹھانی پڑی تھی کیونکہ قدرتی طور پر انسان بعض دفعہ یہ خیال کر لیتا ہے کہ یہ مصیبت چند دن کی ہے پھر فراخی کے ایام آجائیں گے اور اس دھو کے میں وہ اپنے لئے مناسب انتظام نہیں کرتا مگر جو حصہ ایسا تھا جس نے میری تحریک کے ماتحت غلہ خریدا اس میں بھی اس قسم کی بد انتظامی پائی جاتی تھی جو نرخ کو بڑھانے کا موجب بن گئی اور اس بد انتظامی اور گھبر اہٹ کی وجہ سے ہی قادیان کے ارد گرد گندم کے ریٹ عام حالات کی نسبت زیادہ ہو گئے۔قادیان کے رہنے والوں کو ارد گرد کے گاؤں میں لوگ مولوی کہا کرتے ہیں۔میرے پاس ان دنوں کئی لوگوں نے بیان کیا کہ مولویوں نے سائیکلوں پر بوریاں رکھی ہوئی ہوتی ہیں اور ایک ایک گاؤں میں دس دس پندرہ پندرہ بیس بیس آدمی پہنچ جاتے ہیں اور غلہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔جب اس طرح ایک ایک گاؤں میں کئی کئی لوگ پہنچ جاتے تو زمیندار یہ سمجھتے کہ قادیان میں گندم کا قحط پڑ گیا ہے اب جس بھاؤ چاہو ان کے پاس گندم فروخت کر دو۔چنانچہ اس بھا گڑ کے نتیجہ میں بعض زمینداروں نے تو اپنے اپنے غلے چھپا دیئے اور انہوں نے سمجھا کہ غلہ اور زیادہ گراں ہو گا تو ہم فروخت کریں گے اور بعض نے گراں قیمت پر غلے فروخت کئے۔پس اس قسم کی بد انتظامی بھی غلے کا ریٹ بڑھانے کا موجب بن جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض احمدی ایسی ایسی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جو نہایت تعجب انگیز ہوتی ہیں۔ابھی پرسوں یا تر سوں ایک دوست نے ننگل کا ایک واقعہ سنایا۔وہاں کوئی احمدی ہیں انہوں نے انہیں بتایا کہ یہاں ایک دفعہ لکڑیوں کا ایک گڈا آیا جو میں نے خرید لیا مگر بعد میں مجھے خیال آیا کہ یہ سودا مہنگا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے تھوڑے سے منافع پر وہی لکڑیوں کا گڑا ایک اور شخص کے پاس بیچ دیا۔وہ کہتے ہیں کہ چند گھنٹوں کے بعد ہی قادیان کے دو آدمی وہاں گئے اور انہوں نے وہی گڑا اس شخص سے ڈیوڑھی قیمت پر خرید لیا اور ان میں سے ایک دوسرے کو مخاطب کر کے کہنے لگا الْحَمْدُ للہ ہمیں بڑی سستی لکڑیاں مل گئی ہیں۔تو اس قسم