خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 124

خطبات محمود 124 $1943 اندازہ ہے بارہ سیر فی کس غلہ کافی ہوتا ہے۔اگر کوئی خاندان زیادہ وسعت سے گزارہ کرنا چاہتا ہے تو تیرہ سیر غلہ کا اندازہ کرلے۔اگر کوئی خاندان چھوٹا ہے اور وہ تنگی سے گزارہ کر سکتا ہے تو دس گیارہ سیر فی کس کے حساب سے گندم جمع کرلے اور پھر دس یا بارہ یا چودہ یا سولہ سیر کوگھر کے افراد کی مجموعی تعداد سے ضرب دے کر ایک مہینہ کا خرچ خوراک نکال لیا جائے اور پھر بارہ سے ضرب دے کر سال بھر کے خرچ کا اندازہ نکال لیا جائے۔فرض کرو کوئی شخص اکیلا ہے اور وہ شہری ہے تو 12 سیر کے لحاظ سے 12x12: 144 سیر بنیں گے۔یعنی تین من چو بیس سیر اس کے سال بھر کے خرچ کا اندازہ ہو گا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے شہریوں کو بارہ سیر سے زیادہ خرچ خوراک کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے کیونکہ کوئی شخص سارا سال صرف روٹی نہیں کھاتا۔بعض دفعہ انسان سفر پر چلا جاتا ہے۔کبھی اس کی دعوت ہوتی ہے اور کبھی چاول پکالئے جاتے ہیں۔یوں انسان ایک شخص کے لئے دس بارہ سیر غلے کا اندازہ لگائے تو وہ خیال کرتا ہے کہ یہ اندازہ بہت تھوڑا ہے مگر دنیا میں کوئی شخص روزانہ روٹی نہیں کھاتا۔کبھی دعوت میں چلا جاتا ہے اور ور کبھی چاول یا کسی اور چیز پر گزارہ کر لیتا ہے۔اس لئے اس اندازہ کو کم نہیں سمجھنا چاہیئے۔یہ اندازہ پورا ماپ تول کر کیا گیا ہے۔جیسے درزی ماپ کر کپڑا لیتا ہے اسی طرح ماپ تول کر یہ اندازہ لگایا گیا ہے۔اس کے مطابق دس سیر میں تنگی سے اور بارہ سیر میں خوب اچھی طرح ایک شخص کا گزارہ ہو سکتا ہے۔بشر طیکہ اس کے خاندان میں چار افراد اور ہوں۔اگر شہری ہو تو اس کے لئے بارہ سیر غلہ کافی ہوتا ہے اور اگر گاؤں والا ہو تو اس کے لئے چودہ یا سولہ سیر کافی ہو گا۔پس ایک تو میری یہ نصیحت ہے۔دوسری نصیحت گاؤں والوں کو میری یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے بیس فیصدی زیادہ غلہ اپنے پاس جمع رکھیں۔اور شہریوں کو نصیحت یہ ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے کچھ زیادہ غلہ اپنے پاس رکھیں۔اگر ہیں فیصدی زائد نہیں رکھ سکتے تو پانچ یا آٹھ فیصدی غلہ ضرور اپنے پاس زائد رکھیں کیونکہ بعض دفعہ مہمان بھی آجاتے ہیں اور اُن پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔پھر تیسری نصیحت میں نے یہ کی ہے کہ بیرونی جماعتیں اپنے غریب بھائیوں کی امداد کا خیال رکھیں۔خصوصاً قادیان میں جو اصحاب الصفہ رہتے ہیں ان کے متعلق ہر شخص کا فرض۔