خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 123

خطبات محمود 123 $1943 کیونکہ اگر وہ اپنے غلہ میں سے چالیسواں حصہ بھجوائیں گے تو اس قربانی کا انہیں ایسا احساس ہو گا جو ان کے لئے سارا سال نیکی کا محرک رہے گا۔اگر کوئی شخص اپنے لئے چالیس روپے کا غلہ خریدتا ہے اور بعد میں قادیان کے غرباء کے لئے ایک روپیہ کا اور غلہ خرید لیتا ہے تو ایسے شخص کے اندر نیکی کا وہ احساس نہیں ہو سکتا جو احساس اس شخص کے اندر ہو گا جس نے اپنے لئے چالیس روپے کا غلہ جمع کیا اور پھر اس غلہ میں سے اس نے محض غرباء کے لئے ایک روپیہ کا غلہ نکال کر دے دیا۔ایسا شخص جب بھی روٹی کھائے گا اسے یہ احساس ہو گا کہ میں کم روٹی کھاؤں تاکہ میری روٹی کا کچھ حصہ غرباء کے کام آئے اور اس طرح ہر روز وہ نیکی کے احساسات سے پر ہے گا مگر جو شخص زائد چندہ دے کر یہ ضرورت پوری کر دیتا ہے اسے یہ احساس نہیں ہو سکتا۔پس میری تحریک یہ ہے کہ ہر شخص جو غلہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے جمع کرے اس کا چالیسواں حصہ قادیان کے غرباء کے لئے نکال لے۔اس طرح ان کے غریب بھائیوں کو صرف روٹی ہی نہیں ملے گی بلکہ یہ قربانی کا احساس ان کے اندر سال بھر تقویٰ پیدا کرنے کا موجب بنتا رہے گا۔میں فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔میری طبیعت آج خراب ہے اور میں آیا بھی اسی لئے دیر سے ہوں۔مجھے ضعف دل کی تکلیف ہے اور سر چکراتا ہے جس کی وجہ سے میں زیادہ بول نہیں سکتا۔بعض پہلو اس کے رہ گئے ہیں مگر انہیں اِنْشَاءَ اللہ اگلے خطبہ میں بیان کر دوں گا۔میں نے آج جو کچھ کہا ہے اسے پھر خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔میں نے آج یہ بتایا ہے کہ زمینداروں کو چاہیے کہ وہ نئی فصل پر اپنی ضرورت کے مطابق غلہ اکٹھا کر لیں۔اور نہ صرف ضرورت کے مطابق اکٹھا کریں بلکہ بیس فیصدی زائد غلہ جمع کر لیں۔اندازہ کرنے کا طریق میں نے یہ بتایا ہے کہ گاؤں والوں کے لحاظ سے چودہ سیر فی کس غلہ کافی ہوتا ہے اور اگر کوئی اکیلا ہو یا فراغت سے گزارہ کرنا چاہے اور چھوٹے بچے نہ ہوں تو سولہ سیر غلہ کافی ہوتا ہے۔اگر اس نسبت سے وہ غلہ جمع کر لیں تو سال بھر انہیں انشاء اللہ کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو گی۔شہر والوں کے متعلق جہاں تک میرا اندازہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہت صحیح