خطبات محمود (جلد 24) — Page 10
* 1943 10 خطبات محمود کہ آپ مقامی آدمیوں کو ملاقات کا موقع سب سے پہلے دیتے۔آپ تو ہمیشہ ملتے ہی رہتے ہیں۔پھر میں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا کہ انہیں ناراض کر دیا ہے۔آپ ان کو بلوائیں تاکہ میں ان سے ملوں۔چنانچہ مولوی صاحب نے ان کو بلایا۔جب وہ آئے تو میں نے دیکھا کہ ان کا لباس بالکل ایسا ہی ہے جیسے عربوں کا لباس ہو تا ہے اور سانولا سارنگ ہے۔خیر میں ان سے بڑے تپاک سے ملا ہوں اور ان سے باتیں کرتا ہوں تاکہ ان کی دلجوئی ہو جائے۔اس کے بعد میری نظر تین چار اور دوستوں پر پڑی ان کا لباس بھی بالکل عربوں جیسا ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب مجھے ان سے بھی ملائیں۔چنانچہ مولوی صاحب مجھے ان کے پاس لے گئے اور پھر بتانے لگے کہ یہ فلاں شہر کے ہیں، یہ فلاں شہر کے ہیں۔تین چار ہی آدمی ہیں اس سے زیادہ نہیں۔اس کے بعد میں نے ایک اور نظارہ دیکھا اور در حقیقت اسی لئے میں نے تفصیل بیان کی تھی کہ اس چبوترے کے پیچھے جو جگہ ہے وہ اگلے حصہ سے نسبتاً چوڑی ہے اور جہاں ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہیں وہاں سے وہ چبوترہ خم کھا کر ایک طرف مڑتا ہے۔( وہ چبوترے اس شکل کے ہیں) 1 2 جگہ جگہ اس کا پہلا خم ہے جس پر نقشہ میں نمبر 1 لکھا ہے وہاں سے دو تین فٹ جگہ چوڑی ہو گئی ہے۔میں نے دیکھا کہ اس دو تین فٹ جگہ کے کونے میں دو ننگے آدمی جو بہت ہی موٹے تازے ہیں اور ان کے جسم ایسے ہی ہیں جیسے پہلوانوں کے جسم ہوتے ہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے لنگوٹیاں کسی ہوئی ہیں اور باقی تمام جسم ننگا ہے۔اسی طرح انہوں نے سر۔مونڈا ہوا ہے اور تالو کی جگہ انہوں نے عجیب قسم کے کناروں والے بال رکھے ہوئے ہیں جیسے تبتی وغیرہ لوگ ہوتے ہیں۔اسی طرز کے وہ معلوم ہوتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ وہ