خطبات محمود (جلد 24) — Page 11
$1943 11 خطبات محمود کنارہ کی طرف پیٹھ کر کے اور منہ دوسری طرف کر کے چھپے بیٹھے ہیں۔مولوی صاحب سے کہتا ہوں کہ مولوی صاحب ان سے کیوں نہیں ملاتے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جاپانی ہیں۔میں حیران ہو تا ہوں کہ جاپانی ہی سہی مگر یہ چھپے کیوں بیٹھے ہیں۔ان دونوں میں سے ایک لمبے قد کا آدمی ہے اور اس کا جسم نسبتا پتلا ہے۔یوں تو وہ بھی موٹا ہے مگر دوسرے کے مقابلہ میں پتلا معلوم ہوتا ہے اور دوسرا بہت ہی موٹا ہے اور اس کا جسم ایسا ہی ہے جیسے غلام پہلوان اور اسی طرح دوسرے بڑے پہلوانوں کے جسم بتائے جاتے ہیں۔غرض مولوی صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ یہ جاپانی ہیں اور میں ان سے مذاقاً کہتا ہوں کہ کیا جاپانیوں سے مصافحہ کرنا منع ہے۔چنانچہ اس کے بعد میں نے ان میں سے ایک کے سر پر اس کے بالوں والی جگہ پر ہاتھ رکھا اور اس نے بہت ہی شرماتے ہوئے اور لجاتے ہوئے جیسے کوئی سخت شرمسار ہوتا ہے میری طرف اپنا ہاتھ مصافحہ کے لئے بڑھایا اور میں نے اس سے مصافحہ کیا۔پھر میں دوسرے جاپانی کو کہتا ہوں کہ تم بھی مصافحہ کر لو۔وہ بھی اسی طرح سر چھپائے بیٹھا ہے۔اس کا دوسر ا ساتھی بھی اسے کہتا ہے کہ کر لو، کر لو۔چنانچہ اس نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے اپنا ہاتھ ٹیڑھا کر کے آگے کیا۔میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ شاید ان کے ہاں مصافحہ کا رواج نہیں اس لئے اسے معلوم نہیں کہ مصافحہ کس طرح کیا جاتا ہے۔اس پر اس کا دوسرا سا تھی اسے کہتا ہے کہ اس طرح مصافحہ نہیں کیا کرتے اس طرح کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اس نے اس کے ہاتھ کو مروڑا اور میں نے بھی اپنے ہاتھ کو چکر دے کر اس سے مصافحہ کیا۔اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گو اس کا منہ دوسری طرف ہے مگر وہ بھی چوری چوری کنکھیوں سے ہمیں دیکھ رہا ہے۔اس کے بعد میں وہاں سے نماز کی طرف آتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ اب میں انگلستان کی طرف جانے والا ہوں۔چونکہ وہاں انگریزوں سے ملنا ہے اس لئے کم سے کم درد صاحب کو میں تار دے دوں کہ وہ رستہ میں ہی مجھے آکر ملیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے۔اس خواب میں بھی مختلف ممالک کے آدمیوں کو میں نے دیکھا ہے۔عربوں کو دیکھا ہے، جاپانیوں کو دیکھا ہے۔ان سے مصافحہ کیا ہے، ان کے حالات معلوم کئے ہیں۔پھر اپنے