خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 69

$1943 69 8 خطبات محمود انسانی اعمال کا مغز اور چھلکا (فرمودہ 26 فروری 1943ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس قدر اشیاء دنیا میں پیدا کی ہیں ان میں سے ہر ایک کا ایک چھلکا ہوتا ہے اور ایک مغز ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو بغیر چھلکے کے ہو اور نہ کوئی خالی چھلکا ہے اور نہ کوئی خالی مغز ہے۔یہاں تک کہ بظاہر جو چیزیں ایسی نظر آتی ہیں کہ ان کا محض چھلکا ہے غور سے سوچا جائے تو ان کے اندر بھی مغز ہوتا ہے۔گو وہ مغز علیحدہ نہیں ہو تا بلکہ چھلکے کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے۔مثلاً بعض قسم کی لکڑیاں ہیں یا بعض درخت ہیں جن کو پھل نہیں لگتے لیکن ان کی لکڑیاں یا اُن کے پتے، جڑیں یا چھال اپنے اندر خاص خاصیتیں رکھتی ہیں اور وہی خاصیت ان کا مغز ہوتا ہے۔جیسے سنکونا ہے کہ اس کی لکڑی میں ہی کو نین ہوتی ہے جسے الگ کیا جاسکتا ہے باقی فضلہ رہ جاتا ہے۔مگر اکثر حصہ اشیاء کا ایسا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مغز اور چھلکا الگ الگ دکھایا ہے جیسے کہ پھل ہیں۔سب میں مغز الگ ہوتا ہے اور چھلکا الگ جیسے آم، خربوزہ وغیرہ۔شاذونادر بعض میں مغز اور چھلکا ملا ہوا بھی ہوتا ہے اور بعض پھلوں میں چھلکا باریک جھلی کی شکل میں ہوتا ہے جو نظر تو نہیں آتا لیکن اس کا رس اگر چوس لیا جائے تو فضلہ رہ جاتا ہے اور اگر چہ بعض لوگ اس فضلہ کو بھی کھا جاتے ہیں لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ چھلکا ہے ہی نہیں۔جس طرح حیوانی مغز کے اوپر جھلی ہوتی ہے اور مغز اس کے