خطبات محمود (جلد 24) — Page 70
خطبات محمود 70 *1943 اندر ہوتا ہے اور وہ جھلی اس قدر باریک ہوتی ہے کہ بظاہر نظر نہیں آتی لیکن اگر کوئی شخص الگ کر کے دیکھنا چاہے تو دیکھ بھی سکتا ہے۔اسی طرح بیدانہ و شہتوت وغیرہ پھلوں کا حال ہے کہ اس میں رس چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں رکھا ہوتا ہے جو دبانے سے باہر نکل آتا ہے۔یہی حال حیوانات کا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا ایک جسم ہوتا ہے اور ایک روح ہوتی ہے۔جسم بمنزلہ چھلکا کے اور روح اس کی جگہ ہوتی ہے۔یہ تو چیزوں کا حال تھا۔اب ہم انسانی اعمال کو دیکھتے ہیں تو ان میں بھی یہی سلسلہ نظر آتا ہے کہ اعمال میں ایک چھلکا ہوتا ہے اور ایک مغز۔خدا تعالیٰ کے احکام کا بھی ایک چھلکا ہے اور ایک مغز۔مثلاً ہماری نماز ہے اس میں ہمارے قیام کا ایک مغز ہے اور ایک چھلکا۔ہمارے رکوع کا ایک مغز اور ایک چھلکا ہے۔ہمارے سجدے کا ایک مغز اور ایک چھلکا ہے۔ان ہمارے رکوع و سجود سے خدا تعالیٰ کو کوئی فائدہ نہیں، دنیا کو کوئی فائدہ نہیں، خود ہمیں کوئی فائدہ نہیں سوائے اس غرض کے کہ ان قیام رکوع سجود کی کیفیتوں سے ہماری قلبی کیفیت کو ڈھالنے کے لئے مدد مل جائے کیونکہ کئی جسمانی کیفیتیں قلب انسانی پر اثر ڈالتی ہیں۔انسان کی بعض حالتیں ہیں کہ ان سے خود خشیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ دوسرے پر رعب پڑتا ہے۔اور بعض حالتوں میں اپنے اندر خشیت پیدا ہوتی ہے دوسرے پر رعب نہیں پڑتا۔مثلاً اگر ایک شخص دوسرے کے سامنے گھونسہ تان کر آنکھیں سرخ کر کے آستینیں چڑھا کر کھڑا ہو جائے تو خود اس شخص کے اندر کوئی خشیت پیدا نہیں ہو گی بلکہ غصہ پید اہو گا اور دوسرے شخص پر رعب ہو گا۔یا اسی طرح کوئی شخص سجدے میں پڑ جائے یا ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائے تو اس کیفیت سے اس کے اندر کوئی غصہ پیدا نہیں ہو گا، خشیت پیدا ہو گی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قیام، رکوع، سجود مقرر کیا ہے۔یہ حرکات دنیا کے کسی کام کی نہیں، خود ہمارے کام کی نہیں، ہمارے رکوع سے کوئی فائدہ نہیں، ہمارے سجدہ سے کوئی فائدہ نہیں۔صرف خدا تعالیٰ کو ہماری قلبی کیفیت کی ضرورت ہے۔ہمارا سجدہ، ہمارا رکوع تو نماز کے بعد پیچھے رہ جاتا ہے لیکن اگر ہم نے نماز کے وقت سچا سجدہ کیا تھا اور سچی تسبیح کی تھی اور سچے دل سے خدا تعالیٰ کے علیؓ کا اقرار کیا تھا تو اس کا روحانی اثر ہمارے دل میں قائم رہ جائے گا۔پس ہر نماز کے بعد دیکھنا چاہیئے کہ جو اثر