خطبات محمود (جلد 24) — Page 59
$1943 59 خطبات محمود خیال کیا کہ شاید انگریزی حکومت آخری دموں پر ہے۔یہی حال روس میں بھی ہوا کہ ہر ششماہی کے بعد نقشہ الٹ گیا۔پہلی ششماہی میں روس کے متعلق یہ خیال کیا گیا کہ وہ بالکل تباہ ہو جائے گا۔دوسری ششماہی میں یہ خیال کیا گیا کہ اس کی فوجیں جرمنی میں داخل ہو جائیں گی۔تیسری ششماہی میں یہ خیال کیا گیا کہ روس بچتا نظر نہیں آتا۔اور اب چوتھی ششماہی میں پھر لوگ یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ روسی فوجیں جرمنی میں داخل ہو جائیں گی۔کبھی ایک لمحہ کے لئے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال طاری ہو جاتا ہے کہ فیسی ازم دنیا میں قائم ہو جائے گا اور کبھی دوسرے لمحہ وہ اس شبہ میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ شاید بالشویک اب دنیا میں حکمران ہو جائیں گے۔مگر کون یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے سوائے اُس کے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملی ہو کہ آئندہ زمانہ میں کیا ہونے والا ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ اس طرف یا اُس طرف سے دنیا کو کیا فائدہ یا کیا نقصان پہنچنے والا ہے۔۔جہاں تک خدا تعالیٰ کا خانہ ہے وہ تو دونوں طرف سے خالی ہے۔نہ اتحادیوں کو خد اتعالیٰ سے کوئی جوڑ ہے اور نہ ان محوریوں کو خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق ہے۔نہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کا مذہب دنیا میں پھیلے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کا مذہب دنیا میں پھیلے۔نہ وہ توحید کے قائل ہیں نہ یہ توحید کے معترف ہیں۔پس جہاں تک مذہب کا تعلق ہے وہاں تک تو ایک مومن شاید یہ کہنے کے لئے تیار ہو جائے گا کہ سے کیا تعلق ہو ما راچہ ازیں قصہ کہ گاؤ آمد و خر رفت یعنی مجھے اس سے کیا واسطہ کہ گائے آئی اور گدھا گیا۔جو آئے یا جو جائے مجھے اس سکتا ہے۔لیکن جہاں تک سیاسیات کا تعلق ہے قدرتی طور پر ہر جماعت جس کی کسی حکومت سے وابستگی ہے وہ اس سے ہمدردی رکھتی ہے۔جن جماعتوں کو اپنی آئندہ بہتری انگریزوں یا امریکنوں کے ساتھ تعلق رکھنے میں نظر آتی ہے وہ قدرتی طور پر خواہشمند ہیں کہ انگریزوں اور امریکنوں کو اس جنگ میں فتح حاصل ہو۔اور جن جماعتوں کا فائدہ جر منوں اور جاپانیوں کی فتح میں ہے وہ قدرتی طور پر یہ آس لگائے بیٹھی ہیں کہ اس جنگ میں جرمنوں اور جاپانیوں کو فتح حاصل ہو گی۔یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ انگریزوں اور امریکنوں کے ہمدرد تو