خطبات محمود (جلد 24) — Page 36
$1943 36 خطبات محمود غیر احمدی رشتہ دار اس کے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔اور وہ بھی ان کے ساتھ جانے میں جھجک محسوس نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے خاوند یا باپ کی زندگی میں بھی ان کے ہاں آنے جانے کے عادی ہوتے ہیں اور ان کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ہمیں ان کے پاس اس حالت میں نہ جانا چاہئے کہ ان کا اثر قبول کرنا پڑے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیئے ور غیر احمدی رشتہ داروں سے تعلقات نہ رکھنے چاہئیں بلکہ احمد کی ہو کر آدمی کو اپنے رشتہ داروں سے زیادہ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ دیہات کے احمدی غیر احمدی رشتہ داروں کے اثر کو قبول کرنے کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور بعض اوقات کر لیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ زیادہ مستقل تربیت کے محتاج ہوتے ہیں۔اور ہمارے موجودہ مبلغ نہ تو دیہات میں تبلیغ کے اہل ہیں اور نہ دیہاتیوں کا مذاق رکھتے ہیں اور نہ ہی ہمارے مالی حالات ایسے ہیں کہ ہم اتنے زیادہ مبلغ رکھ سکیں کہ وہ دیہات میں جگہ جگہ تبلیغ کر سکیں۔ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دو قسم کے مبلغ ہونے چاہئیں۔ایک تو وہ جو بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جا کر تبلیغ کر سکیں، لیکچر اور مناظرے وغیرہ کر سکیں۔اپنے ماتحت مبلغوں کے کام کی نگرانی کر سکیں اور ایک ان سے چھوٹے درجہ کے مبلغ دیہات میں تبلیغ کے لئے ہوں۔جیسے دیہات کے پرائمری سکولوں کے مدرس ہوتے ہیں۔ایسے مبلغ دیہات کے لوگوں میں سے ہی لئے جائیں۔ایک سال تک ان کو تعلیم دے کر موٹے موٹے مسائل سے آگاہ کر دیا جائے اور پھر ان کو دیہات میں پھیلا دیا جائے اور جس طرح پرائمری مدرس اپنے ارد گرد کے دیہات میں تعلیم کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس طرح یہ اپنے اپنے علاقہ میں تبلیغ کے ذمہ دار ہوں۔پرائمری مدرسوں کی تنخواہ 15، 20 روپیہ ماہوار ہوتی ہے اور اتنی تنخواہ ہم ان مبلغوں کو دیں گے۔میرا خیال ہے کہ ایسے مدرس پنجاب میں 15، 20 ہزار ہوں گے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسے ہی درجہ اور اتنی ہی تعلیم کے نوجوانوں کو دینی مسائل سکھا کر ہم انہیں تبلیغ کے لئے مقرر نہ کریں۔انہیں ایک سال میں موٹے موٹے دینی مسائل مثلاً نکاح ، نماز، روزہ، حج، زکوۃ، جنازہ وغیرہ کے متعلق احکام سکھا دیے جائیں۔قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیا جائے۔کچھ احادیث پڑھا