خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 35

$1943 35 خطبات محمود علمی مذاق اتنا اعلیٰ ہوتا ہے کہ گاؤں کے لوگوں میں بیٹھ کر ان کی مرضی اور سمجھ کے مطابق یہ تبلیغ نہیں کر سکتے۔پھر ان مبلغین کو ہم جو گزارہ دیتے ہیں اور دینا چاہیئے اور ان کی تعلیم اور اخراجات کے لحاظ سے ان کو جو گزارہ دیا جاتا ہے وہ ایسا ہے کہ اسے برداشت کر کے زیادہ تعداد مبلغوں کی نہیں رکھی جاسکتی۔اور لازما مبلغین کی تعداد کم رکھنی پڑتی ہے۔چنانچہ پانچ چھ سال سے کوئی نیا مبلغ نہیں رکھا جا سکا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مبلغین کو جو اخراجات دینے پڑتے ہیں وہ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی تعداد بڑھائی نہیں جا سکتی۔وہ دراصل تو کم ہیں مگر سلسلہ کی مالی حالت کے لحاظ سے ایسے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے زیادہ مبلغ رکھنے کی گنجائش نہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دیہات کے لوگ تبلیغ اور مبلغوں سے استفادہ سے عام طور پر محروم رہ جاتے ہیں۔حالانکہ دیہات کے لوگوں کو ہی مبلغوں کی زیادہ ضرورت ہے۔وہ کمی تعلیم کی وجہ سے بعض اوقات دشمن کا شکار ہو جاتے ہیں۔دیہات کے لوگ جتھوں کی صورت میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں اور اس وجہ سے دیہات کے احمدی بھی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔شہروں میں اہلی زندگی بہت کمزور ہے۔یہاں تک کہ اگر شہر میں کسی کا کوئی رشتہ دار آجائے تو بعض اوقات انہیں دھتکار دیا جاتا ہے مگر دیہات میں یہ حالت نہیں۔وہاں رشتہ دار کو لوگ کھینچ کر بھی اپنے گھر لے جاتے اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔شہروں میں تو عام طور پر یہ حالت ہے کہ اگر کسی کا بھتیجایا بھاوج بھی آجائے چند دن اس کے ہاں رہے تو اسے کہہ دیتے ہیں کہ جا کر اپنا انتظام کرو۔مگر دیہات کی یہ حالت نہیں اور خدا کرے کہ کبھی ایسی حالت نہ ہو۔دیہاتی عام طور پر مہمان نواز ہوتے ہیں اور تکلیف کے وقت میں رشتہ داروں کی مدد کرتے ہیں اور عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے قریب بلکہ بعید کے رشتہ داروں کے بھی ذمہ دار ہیں۔کسی پر کوئی مشکل وقت آن پڑے تو اس کے رشتہ دار اسے اپنے ہاں لے جاتے ہیں اور اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔گو اس طرح انہیں کام میں مدد دینے والے ہاتھ بھی میسر آجاتے ہیں مگر ان کی نیت یہ نہیں ہوتی کہ یہ کام میں ہماری مدد کریں بلکہ نیت ان کی مدد کرنے کی ہوتی ہے۔اس لئے دیہات کے احمدی اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کے اثرات سے بچے نہیں رہ سکتے۔اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی احمدی فوت ہو جائے تو اس کے