خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 318

خطبات محمود وہ 318 * 1943 شخص جسے اس کی قربانیوں کا پھل نہ ملا جس نے کوششیں کیں مگر ان کا کوئی نتیجہ اس نے نہ دیکھا وہ شخص اگر عبادت میں سستی کر جائے تو غلطی میں مبتلا سمجھا جاسکتا ہے مگر وہ جس نے دیکھا کہ اس پر فضل نازل ہوئے ، جس نے دیکھا کہ ہر قسم کی بدنامی اور الزام سے اللہ تعالیٰ نے اسے بچالیا، جس نے دیکھا کہ اسے زمین سے اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے عرش بریں تک پہنچا دیا، جس نے دیکھا کہ ایک مُشتِ خاک کو اس نے اپنے پیاروں میں شامل کر لیا وہ اگر قربانی نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔پس مت خیال کرو کہ جب کوئی ترقی کی پیشگوئی پوری ہو یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہو تو اس کے بعد تمہیں قربانیوں کی ضرورت نہیں رہ سکتی۔کسی پیشگوئی یا نشان کا پورا ہونا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ایک بیج بویا جاتا ہے۔اس کے بعد اگر تم یہ سمجھ لو کہ اب تمہیں قربانی اور محنت کی ضرورت نہیں یا تمہارے دل میں موت سے پہلے کسی وقت بھی یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ تمہارے ایمان میں کمزوری پیدا ہو چکی ہے اور کسی خفیہ بد عملی نے تمہاری اس طاقتِ ایمان کو سلب کر لیا ہے جو تمہارے اندر پائی جاتی تھی۔ورنہ ایک مومن تو جب یہ سنتا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ نے کوئی کامیابی دی ہے یا برکت دی ہے یا ترقی دی ہے تو وہ قربانی میں اور بھی بڑھ جاتا ہے۔رسول کریم صلی ال نیم کے تین صحابی تھے۔قرآن کریم میں ان کا خاص طور پر ذکر آتا ہے۔وہ کسی غفلت کی وجہ سے ایک عظیم الشان جنگ میں شامل ہونے سے رہ گئے۔جس کا خدا تعالیٰ کے خاص منشاء کے ماتحت ارادہ کیا گیا تھا۔اور جو اپنے اندر بہت بڑی برکات رکھتی تھی۔چنانچہ منافقوں کی تباہی اسی جنگ کے نتیجہ میں ہوئی۔جب رسول کریم صلی ا لم جنگ سے واپس آئے تو منافقوں نے آآکر معذر تیں کرنی شروع کر دیں کہ ہم اس اس وجہ سے شامل نہیں ہوئے۔رسول کریم صل ال نرم ہاتھ اٹھاتے ، ان کے لئے دعا کرتے اور وہ واپس چلے آتے۔یہ تین صحابی جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک کے پاس ان کا ایک دوست گیا۔انہوں نے پوچھا کیا ہو رہا ہے۔اس نے کہا معاملہ تو سہولت سے طے ہو رہا ہے۔لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں یا رسول اللہ ! اس وجہ سے غلطی ہو گئی اور آپ کہتے ہیں آؤ میں تمہارے لئے استغفار کروں۔چنانچہ آپ ہاتھ اٹھاتے اور دعا کرتے ہیں اور وہ خوش خوش