خطبات محمود (جلد 24) — Page 319
$1943 319 خطبات محمود صا الله سة واپس چلے جاتے ہیں۔تم بھی رسول کریم صلی اللی کام کے پاس جا کر معذرت کر دو تاکہ ناراضگی سے بچ جاؤ۔اس صحابی کا بیان ہے کہ میں نے کہا اچھا ہوا کہ معاملہ اس طرح آسانی سے طے ہو رہا ہے مگر معا مجھے خیال آیا کہ جن کا اس دوست نے ذکر کیا ہے وہ تو سب منافق ہیں۔میں نے اس سے کہا تم یہ بتاؤ کہ فلاں فلاں شخص جن کو میں مومن سمجھتا ہوں کیا وہ بھی آئے تھے ؟ اس نے کہا ہاں آئے تھے۔میں نے پوچھا تو پھر انہوں نے کیا کہا ؟ وہ کہنے لگا انہوں نے تو کہا ہے کہ یارسول اللہ ہمارا قصور تھا کہ ہم پیچھے رہ گئے۔اور رسول کریم صلی ا ہم نے ان سے فرمایا کہ جاؤ اور خدا کے فیصلہ کا انتظار کرو۔اس پر میں نے کہا معافی مجھے ملے یا نہ ملے میں وہ کام تو ہر گز نہیں کروں گا جو منافقوں نے کیا ہے۔چنانچہ یہ گئے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ ! سارے سامان میسر تھے۔میرا گناہ تھا کہ میں شامل نہ ہوا اور ستی کی وجہ سے ثواب کے اس عظیم الشان موقع سے محروم رہا۔رسول کریم صلی الی ایم نے فرمایا جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرو۔دوسرے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ان تینوں سے کوئی شخص کلام نہ کرے اور نہ ان سے کسی قسم کا تعلق رکھے۔وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی الی یوم کے اس حکم کے نتیجہ میں ہم سے کلام سلام بند ہو گیا۔کچھ عرصہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا ان کے بیوی بچے بھی ان سے الگ ہو جائیں۔چنانچہ وہ بھی الگ ہو گئے۔چند دن گزرے تو میری بیوی نے مجھے کہا کہ فلاں صحابی نے رسول کریم صلی ا یکم سے خواہش کی تھی کہ میں بوڑھا اور کمزور ہوں میری بیوی کو میری خدمت کرنے کی اجازت دی جائے اور رسول کریم صلی لی ایم نے اس کو اجازت دے دی ہے تم بھی جاؤ اور رسول کریم صلى الم کی خدمت میں درخواست کرو کہ میری بیوی کو میری خدمت کرنے کا موقع دیا جائے۔میں نے اس سے کہا یہ شیطان کا وسوسہ ہے۔وہ تو بڑھا ہے اور اسے بیوی کی خدمت کی ضرورت ہے۔میں جوان ہوں مجھے خدمت کی کیا ضرورت ہے۔پس میں نے اس سے صاف کہہ دیا کہ میں کوئی ایسا کام کرنے کے لئے تیار نہیں جس سے مجھے سزا میں کمی محسوس ہو۔مگر وہ کہتے ہیں باوجود اس جذبہ کے میرے دل میں یہ درد تھا کہ لوگ کہیں مجھے بھی منافقوں میں شامل نہ سمجھ لیں۔ان کے ایک دوست تھے جو رشتہ میں بھائی بھی تھے۔یہ دونوں ہمیشہ اکٹھے رہتے م الله سة الله سة