خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 310

$1943 310 خطبات محمود اس لئے رُکے کہ ان کے امام کی طرف سے جماعت احمدیہ کے افراد کی جانوں کی حفاظت کے لئے ایسا حکم دیا گیا تھا۔میں سمجھتا ہوں یہی ایک حقیقی تعلق ہے جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ہو تا ہے اور یہی ایک ذریعہ ہے جو انسانوں کے دلوں کو اطمینان اور یقین سے پر رکھتا ہے مگر ، اللہ تعالیٰ جہاں ایک طرف مومنوں کو عاشقانہ قربانیوں کی طرف بلاتا ہے وہاں ایسی حالت پر بھی وہ ان کو قائم کرنا چاہتا ہے جہاں اطاعت اور فرمانبر داری کا جذبہ ان کے سارے جذبات پر غالب آ جائے۔وہ قوم جس میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ دین کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔نہ اس کے مرد نہ اس کی عورتیں، نہ اس کے بوڑھے نہ اس کے بچے، نہ اس کے امیر نہ اس کے غریب اور پھر ساتھ ہی اس قوم میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ ایک آواز پر اٹھتی ہے، ایک آواز پر بیٹھتی ہے، ایک آواز پر بڑھتی ہے اور ایک آواز پر رکتی ہے وہی قوم خدا کی قوم کہلاتی ہے اور وہی قوم ایسی ہوتی ہے جس کے سامنے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔وہ حلم اور انکسار میں کمزور ترین وجود نظر آتے ہیں اور دنیا ان کو دیکھ کر خیال کرتی ہے کہ ان کے پاؤں تلے چیونٹی بھی نہیں آتی۔ان کے ہاتھ سے ایک مکھی بھی گزند نہیں پاتی مگر خدا کی آواز اس قوم کے کانوں میں پڑتی ہے وہ بھوکے شیر کی طرح دھاڑتی ہوئی دشمن پر لپکتی ہے اور جب تک خدا کے حکموں کو پورا نہیں کر لیتی اس کی حرکت میں سکون پیدا نہیں ہو تا۔اس کا دل اطمینان نہیں پاتا۔پس میں سمجھتا ہوں یہ قربانی جو دوستوں کو اس سال کرنی پڑی ہے یہ بھی ان کے ایمان کا ایک نمونہ اور ثبوت ہو گی۔اور گو ہمارے قادیان کے بعض دوستوں پر یہ بات گراں گزر رہی ہے اور اس لئے میرے احکام کی اشاعت میں انہوں نے پورا حصہ نہیں لیا مگر بہر حال اس قسم کا حکم دینا میرے لئے ضروری تھا۔وہ سمجھتے ہیں اگر جلسہ پر تھوڑے آدمی آئے تو لوگ کیا کہیں گے حالانکہ جو نادان اور اندھے ہیں ان کے کچھ کہنے یانہ کہنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا۔اور نہ وہ کوئی ایسی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کی بات کی طرف توجہ کی جائے مگر جن کی آنکھیں ہیں اور جنہیں خدا تعالیٰ نے سمجھنے والا دل دیا ہے وہ کہیں گے دیکھو اس قوم کو کہ جب اسے حکم دیا جاتا ہے بڑھو تو یہ بڑھتی ہے اور جب اسے حکم دیا جاتا ہے