خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 311

$1943 311 خطبات محمود کہ ٹھہر و تو یہ ٹھہرتی ہے۔پس یہ چیز ان کے ایمانوں کو بڑھانے کا موجب ہو گی بجائے اس کے کہ ان کے دل میں کوئی اعتراض پیدا ہو۔باقی مجھ سے بعض دوستوں نے دور سے آنے والوں کے متعلق پوچھا کہ کیا ہم تاریں دے کر ان کو روک دیں۔میں نے انہیں کہا کہ نہیں دور سے آنے والے پہلے ہی مستقلی ہیں۔اس لئے جن کو توفیق ہو اور جنہیں سفر کی سہولتیں میسر ہوں وہ اس موقع پر آسکتے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کافی روپیہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے انہیں سفر میں بھی اتنا آرام رہتا ہے جتنا عام لوگوں کو حضر میں میسر نہیں آتا۔ایسا شخص اگر آتا ہے تو وہ اس قسم کی تکلیف نہیں اٹھاتا جو اس کی صحت اور اس کی جان کے لئے خطرہ کا موجب ہو۔اگر واقع میں ایسے لوگوں کے دلوں میں اخلاص ہو گا تو خدا تعالیٰ ان کو یہاں آنے کی توفیق دے دے گا اور وہ اس جلسہ میں شمولیت سے محروم نہیں رہیں گے۔میری ہدایت صرف ایسے لوگوں کے لئے ہے جو کمزور ، ضعیف اور ناطاقت ہیں اور جن کے لئے سفر کرنا نا قابل برداشت ہو جاتا ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جیسے آجکل پیدا ہیں۔دوستوں کو معلوم ہے کہ قادیان آنے کے لئے صرف دو ٹرینیں مقرر ہیں اور ان کے اوقات بھی اس قسم کے ہیں جو آرام دہ نہیں۔ایک گاڑی تو دو پہر کو آجاتی ہے مگر دوسری گاڑی رات کے گیارہ بجے بلکہ بعض دفعہ ایک اور دو بجے آتی ہے۔بہر حال گورنمنٹ کا فعل کسی شکایت کا موجب نہیں۔جہاں تک ہماری جماعت کے لئے حکام انتظام کر سکتے تھے وہ انہوں نے کیا اور ہم ہر صورت میں ان کے ممنون ہی ہیں۔اب میں خطبہ کو ختم کرتے ہوئے دوستوں سے یہ خواہش کرتا ہوں کہ وہ عورتیں، بچے اور ضعیف مرد جو میری ہدایت کے ماتحت پیچھے رہے ہیں دوستوں کو چاہیے کہ تمام جلسہ بھر ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے جذبات کی اس قربانی کو قبول فرمائے اور اس ثواب میں انہیں شریک کرے جو اس جلسہ میں شامل ہونے کی وجہ سے ہمارے لئے مقدر کیا گیا ہے کیونکہ ہر شخص جو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے جذبات کی قربانی کرتا ہے وہ اس سے کم نہیں جو اپنے جسم اور آرام کی قربانی اس کے لئے کرتا ہے۔“ (الفضل 5 فروری 1944ء)