خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 309

$1943 309 خطبات محمود پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے کہ خواہ انہیں کس قدر قربانی کرنی پڑے انہیں اس مقدس تقریب پر حاضر ہونا چاہیے۔وہاں ہمارا بھی فرض ہے کہ جہاں ہم دیکھیں کہ اس قسم کی قربانی کا اسلام نے کافی طور پر مطالبہ نہیں کیا وہاں ہر مومن کی جان بچانے کی کوشش کریں۔ابھی میں لاہور میں ہی تھا کہ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ گورنمنٹ اپنی مجبوری کی وجہ سے اس دفعہ سپیشل ٹرینوں کا انتظام نہیں کر سکی اور میں نے خاص طور پر دوستوں کو ہدایت کی کہ وہ اخبار میں نمایاں طور پر اس کی اشاعت کرتے رہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس کی پوری اشاعت نہیں ہوئی۔میں نے ایک افسر سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا اس محبت کی وجہ سے جو لوگوں کو سلسلہ سے ہے وہ خود بخود اخلاص اور شوق سے آتے ہیں۔میں نے اسے جواب دیا کہ جماعت کی زندگی کی یہی علامت ہے کہ دینی مواقع پر حاضر ہونے کے لئے وہ ہر ممکن قربانی کرے اور اسے اس راہ میں جتنی بھی تکلیف پہنچے اسے برداشت کرے۔جب تک یہ مادہ جماعت میں نہیں پایا جاتا ، جب تک یہ مادہ جماعت میں قائم نہیں رہتا اس وقت تک جماعت صحیح معنوں میں جماعت نہیں کہلا سکتی مگر جس طرح یہ ضروری ہے کہ جماعت کے تمام افراد میں قربانی اور اخلاص کا مادہ پایا جائے اسی طرح ہم لوگوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کے لئے مامور کیا ہے کہ ہم بھی یہ دیکھیں کہ کسی مومن کی جان بے فائدہ اور بے غرض ضائع نہ ہو۔پس ذمہ داری صرف ایک حصہ پر نہیں بلکہ دوسرے حصہ پر بھی ہے۔ایک حصہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک عاشق جانباز کی طرح اپنی جان قربان کرنے کے لئے ہر وقت آگے بڑھے اور دوسرے کا یہ فرض ہے کہ وہ عقل اور فہم سے کام لیتے ہوئے عشق کو ایسے رنگ میں ظاہر نہ ہونے دے کہ اس میں اسلام کا تو کوئی فائدہ نہ ہو اور مومنوں کی جانیں ضائع ہو جائیں۔پس گو یہ بات احباب پر گراں گزری ہو گی مگر میں سمجھتا ہوں جن کے دلوں میں اخلاص اور محبت ہے اور جنہوں نے میرے اس حکم کی تعمیل کر کے تکلیف اٹھائی ہے اللہ تعالیٰ ان کو ثواب کے زیادہ موقعے بہم پہنچا کر ان کی اس کمی کو پورا کر دے گا اور ان کا میرے حکم کے ماتحت قادیان میں نہ آنا بھی زیادتی ایمان اور زیادتی اخلاص کا موجب ہو گا کیونکہ وہ اس لئے نہیں آئے کہ ان کا دل قادیان آنے کو نہیں چاہتا تھا بلکہ وہ