خطبات محمود (جلد 24) — Page 293
$1943 293 خطبات محمود یہ معنے نہیں کہ وہ تاریخ کے علم کا بھی ماہر ہے۔ایک بڑے سے بڑے فلاسفر کا ڈاکٹری کے علم میں ماہر ہو نا ضروری نہیں۔اسی طرح ایک بڑے سے بڑا ڈاکٹر لازماً فلاسفر نہیں ہو سکتا۔اور جس علم سے واقفیت نہ ہو اس میں دخل دینا غلط طریق ہے۔اور ایسی باتیں کرنا آداب کے خلاف ہے۔میں بھی یہ مانتا ہوں کہ مفتی صاحب کی روایات میں غلطی ہو سکتی ہے اور اگر کہنے والے کے علم میں ایک بات غلط ہے تو ممکن ہے میرے نزدیک دس باتیں غلط ہوں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کی خدمات اور اس احسان میں جو تاریخ لکھ کر انہوں نے جماعت پر کیا ہے کوئی فرق نہیں آسکتا۔غلطیاں شاید میں دوسروں سے زیادہ جانتا ہوں مگر ان کی بناء پر ان کو نا قابل اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔جس طرح میں نے بتایا ہے کہ پرانے مفسرین کی کسی غلط بات کی بنیاد پر ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔بعض نادان مجھ سے یہ بات سن کر کہ پرانے مفسرین نے فلاں بات غلط لکھی ہے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان تفسیروں میں کیا رکھا ہے مگر میں جس سے کسی غلط بات کا علم حاصل کر کے وہ یہ الفاظ کہتے ہیں ان کے احسان کو مانتا ہوں اور میری گردن ان کے بارِ احسان سے اٹھ نہیں سکتی۔اگر وہ لوگ لغوی، صرفی، نحوی بحثیں نہ کرتے اور وہ ذخائر جمع نہ کر جاتے ، اگر وہ اس قدر وقت صرف نہ کرتے تو آج ان باتوں پر ہمیں وقت لگانا پڑتا۔پھر اگر ہم ان کے ممنون نہ ہوں تو یہ غداری اور ناشکری ہو گی۔انہوں نے قرآن کریم کی ایسی خدمت کی ہے کہ اگر وہ آج ہوتے تو بے شک وہ اس احسان کی بھی قدر کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ کیا ہے مگر اس حصہ میں جو خدمت قرآن میں ان کا ہے ہم بھی ان کی شاگردی سے دریغ نہ کرتے۔پس ہمارے نوجوانوں کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی عزت و احترام میں فرق نہ لانا چاہیے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جو کچھ کہیں اسے مان لیں۔میں خود بھی ہر بات کو نہیں مانتا مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ نا قابل اعتبار ہیں۔اگر کوئی بات غلط ہے تو اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ممکن ہے اس وقت راوی کی توجہ کسی اور طرف ہو ممکن ہے اس نے ساری بات سنی ہی نہ ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے ساری بات سنی تو ہو مگر غلط سمجھی ہو۔مگر اس کی وجہ سے اسے ناقابل اعتبار نہیں کہا جا سکتا۔ایسا کہنا فطرت کے