خطبات محمود (جلد 24) — Page 283
$1943 283 خطبات محمود بنانے والے اوصاف کو ہم نے ضائع کر دیا تو اس کے بعد میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں رہتی کہ یہ اعتراض کیا جائے کہ انگریزوں نے ہندوستان لے لیا۔انہوں نے ہندوستان لے لیا تو اس وجہ سے کہ ہم ایک گری پڑی چیز تھے۔انہیں یہ چیز نظر آئی اور اس کو انہوں نے اٹھالیا۔پس یہ سوال ہی بالکل غلط ہے کہ انہوں نے ہندوستان کو ناجائز طور پر لے لیا۔یہ ایک خدائی قانون ہے کہ جب کوئی قوم اپنے آپ کو گری پڑی چیز ہی کی طرح بنا لیتی ہے تو اس وقت کوئی نہ کوئی اسے ضرور اٹھالیتا ہے۔اور سب سے مقدم حق اس کا ہوتا ہے جو اس چیز کو سب سے پہلے دیکھے یا سب سے پہلے اسے اٹھا لے۔جیسے اگر کسی گری پڑی چیز کو چار پانچ آدمی دیکھیں تو جو شخص دوڑ کر پہلے اٹھالے گا وہ چیز اس کی ہو جائے گی اور جو بعد میں آئے گا اسے اس سے محروم رہنا پڑے گا۔جیسے ہندوستان میں انگریز بھی آئے اور بعض دوسری قومیں بھی مگر انگریزوں نے ہندوستان پر پہلے قبضہ کر لیا اور دوسری قومیں اس سے محروم ہو گئیں۔تو قانون یہی ہے کہ گری پڑی چیز جسے مل جائے وہ اسے اٹھا کر اپنے قبضہ میں کرلے۔ہم بچے تھے تو ایک کھیل کھیلا کرتے تھے کہ جب کوئی چیز اتفاقاً ہمیں مل جاتی تو ہم دوڑ کر اسے اٹھا لیتے اور کہتے “ لبھی چیز خدادی نہ دھیلے دی نہ پادی۔” یعنی جو چیز پڑی ہوئی ملے نہ وہ دھیلے سے حاصل ہوتی ہے نہ پائی سے بلکہ وہ تو خدا کی ہے۔یعنی مفت کا مال ہے۔اس “خدا دی ” کا مطلب یہ نہیں ہوا کرتا تھا کہ یہ صرف خدا کی ہے ہماری نہیں بلکہ مطلب یہ ہوا کرتا تھا کہ چونکہ یہ چیز خدا کی ہے اور ہم خدا کے بندے ہیں اس لئے یہ چیز ہماری ہے۔تو بات یہ ہے کہ گری پڑی چیز جسے مل جائے وہ اسے اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔اگر چار پانچ شخص اکٹھے کسی چیز کو دیکھیں تو جو دوڑ کر پہلے اٹھالے وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔جیسے ہندوستان میں فرانسیسی بھی آئے، پرتگیز بھی آئے ، انگریز بھی آئے اور سب کی ہندوستان پر اکٹھی نظر پڑی مگر چونکہ انگریزوں نے دوڑ کر ہندوستان کو پہلے لے لیا اس لئے وہ اس کے مالک بن گئے۔پس یہ اعتراض بے وقوفی کا اعتراض ہے۔تفصیلات میں بے شک اعتراض ہو سکتا ہے مگر اس بات میں پڑنا بالکل بے وقوفی ہے کہ ہندوستان پر انگریزوں نے کیوں قبضہ کر لیا۔اصل چیز جو ہمارے مد نظر رہنی چاہئے اور جسے ہر وقت ہمیں آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ جس خدا نے ہم کو اپنی غفلتوں کی وجہ سے یہ سزا دی ہے کہ